خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 253
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۳ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب تھے کہ قرآن کریم پڑھوائیں یا دوسری قربانیاں ( اطفال کے وقف جدید کے چندے وغیرہ) دو۔بہر حال انہوں نے تربیت کا بہت اچھا کام کیا ہے جماعت کے دوستوں کو قرآن کریم پڑھایا جوست تھے ان کی سستی دور کی وغیرہ وغیرہ سب خرچ اپنا کیا آنے جانے کا کرایہ بھی خود دیا لیکن میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ جماعت کے ایک طبقہ میں (چاہے وہ ہزار میں سے ایک ہی کیوں نہ ہو) یہ روح کمزور ہوتی ہے اور ہمیں فوری طور پر سمجھ جانا چاہئے ہم اس وقت تک اپنے مقصد حیات کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک یہ جذ بہ ہمارے اندر نہ پایا جائے کہ ہم نے رضا کارانہ خدمت اللہ اور اس کے رسول کی کرنی ہے پتہ نہیں اللہ تعالیٰ آئندہ ان سے کس قسم کی قربانیاں لے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔تو رضا کارانہ خدمت کا جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا چاہئے کیونکہ اگر جیسا کہ میری طبیعت پر بڑا گہرا اثر ہے کہ آئندہ تمیں سال دنیا کے لئے نہایت نازک ہیں اور اگر یہ صحیح ہے تو ہمیں ( جو اس وقت زندہ ہیں یا جب تک دنیا میں ہیں یا جو ہم سے جوان ہوں یا جوانی کی حالت میں بعد میں آکر ہم سے ملیں ) اور ان کو انتہائی قربانی دینا پڑے گی اور ان قربانیوں کی بنیاد رضا کارانہ خدمت پر ہونی چاہئے اور ہوگی کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے اموال بھی اس کثرت سے نہیں دیے کہ ہم دین اسلام کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں لیکن ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا یہ وعدہ اس شرط کے ساتھ دیا ہے کہ ہم اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔تو اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا وعدہ معجزانہ رنگ میں پورا ہو جائے اور دنیا ایک عظیم انقلاب کی کروٹ بدلے اور وہ جو آج اس چیز کو نامکمل سمجھتے ہیں کم سے کم یہ سمجھنے لگیں کہ واقعہ میں دنیا میں اسلام کے حق میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو رہا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ہو تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم رضا کارانہ خدمت کے جذبہ کو پختہ اور مضبوط کریں اور بیدار رکھیں جس وقت بھی آواز ہمارے کانوں میں پہنچے ہمیں سوچنے کی ضرورت نہ پڑے ہمارے دل اور ہمار دماغ اور ہماری روح نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ اس آواز کو لبیک کہتے ہوئے ہم رضا کارانہ طور پر ہر قربانی خدا تعالیٰ کی اس برگزیدہ جماعت کے نظام کے سامنے ہم پیش کر دیں گے۔نویں صفت تو کل ہے تو کل کے لغوی لحاظ سے معنی یہ ہیں کہ انسان خود کو عاجز پائے اور کسی اور پر