خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 242

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۲ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کرتے ہیں کہ خدا کے نام کو دنیا سے مٹا دیں گے لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ روس میں احمدی اتنی کثرت سے پھیل جائیں گے جتنی کثرت سے دریا کے کنارے پر ریت کے ذرے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کشف کے ذریعہ یہ نظارہ دکھایا گیا اور اس ملک میں احمدیت کے پھیلنے کی بشارت آپ کو دی گئی هُوَ اجْتَبكُمُ الله تعالیٰ نے تمہیں برگزیدگی دی ہے۔تمہیں برگزیدہ بنایا ہے تمہیں عزت دی ہے کہ تم روس کو خدا تعالیٰ کے لئے فتح کرو۔اگر اس وعدہ اور اس بشارت کے ہوتے ہوئے ہم جہاد نہ کریں تو ہمارے حق میں یہ وعدہ کیسے پورا ہوگا اتنی بڑی عزت کو اتنی بڑی طاقت کو جو اس وقت ایک قسم کی خدا تعالیٰ سے بغاوت اختیار کر رہی ہے اور دنیوی طاقت کے بل بوتے پر ان کو خدا کے لئے جیتنا اور اُن کو خدا کے آستانہ پر واپس لے کر آنا کوئی معمولی کام نہیں اور جو یہ کام کرے گا اس کی بڑی عزت ہے۔دنیوی معیار کے مطابق بھی اس کی بڑی عزت ہے اتنا بڑا انعام اور فخر کا سامان تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔کیا پھر بھی تم جہاد کا حق ادا نہیں کرو گے۔جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِہ۔ہم نے شرک کے خلاف، ہم نے دہریت کے خلاف اپنا پورا زورلگانا ہے۔ہمارے اندر ہر وقت روح مجاہدہ زندہ رہنی چاہئے۔یہ وہ تو میں نہیں جن سے ہم شکست کھا جائیں یا شکست کا خیال بھی ہمارے دماغوں میں آئے۔اس لئے نہیں کہ ہمارے اندر کوئی خوبی ہے بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی توفیق دی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیں کہ جو چیز میرے پاس نہیں وہ تو میں قربان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن اگر میری جیب میں سو روپیہ ہے اور میں یہ نیت کروں کہ میں یہ سو روپیہ خدا کو دے دوں گا تو مجھ میں اس کی طاقت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وہی مانگا ہے جو میرے پاس ہے۔زیادہ نہیں مانگا کہ میں یہ کہوں کہ میں یہ کام کیسے کروں گا۔خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ جتنا تمہارے پاس ہے مال ہو یا طاقت ہو یا عقل ہو یا سمجھ ہو یا علم ہو یا ذہانت ہو یا وقت ہو۔یہ سارا تم خدا کی راہ میں خرچ کر دو۔جہاد کاحق ادا کر دو۔کامیابی میں تمہیں دے دوں گا۔چاہے تمہارا اقتدار، تمہارے احوال ، ان قوموں کے مقابلہ میں صفر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر تم جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے مجھے دے دو گے تو میں تمہیں کامیابی دے دوں گا اور دنیا میں یہ ثابت کروں گا کہ تم ہی میرے مجتبی بندے ہو تمہیں ہی میں نے برگزیدہ بنایا ہے۔