خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 232 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 232

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۲ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب حضور کے پاس پہنچوں چنانچہ بیویوں نے سامان درست کیا اور ابوخیثمہ اونٹ پر سوار ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے ( راستہ میں ایک دو اور صحابہ بھی آپ کو ملے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی یہی گزری ہوگی ) یہاں تک کہ وہ تین منزل پر حضور سے جاملے۔(سیرۃ ابن ہشام جلد نمبر ۴ صفحه ۱۶۳ ۱۶۴) جنگ احد کے موقع پر ایک صحابی جن کا نام حنظلہ تھا اپنی بیوی کے ساتھ ہم صحبت تھے کہ ان کے کان میں آواز آئی کہ اے مسلمانو جہاد کے لئے باہر نکلو وہ اسی وقت کھڑے ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی تلاش میں یہ بھول گئے کہ انہیں نہانا بھی چاہئے اور وہ اسی طرح چلے گئے اور جنگ احد میں وہ مارے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھایا کہ فرشتوں نے ان کو غسل دیا ہے ویسے جو شہید ہوتے ہیں ان کو تو غسل نہیں دیا جاتا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا کہ فرشتوں نے ان کو نسل دیا چونکہ یہ بات معمول کے مطابق نہ تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی بیوی سے جا کر پوچھو شاید کسی ایسی بات کا پتہ لگے کہ کیوں ان کو فرشتے غسل دے رہے تھے چنانچہ صحابہ ان کی بیوی کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ جنبی حالت میں ہی جہاد کے لئے روانہ ہو گئے تھے محبت میں انہیں خیال ہی نہیں رہا تھا کہ انہیں نہانا بھی چاہئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا یہی وجہ تھی کہ اس وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔( غزوہ احد سیرۃ ابن ہشام جلد نمبر ۳ صفحه ۸۹) یہ محبت ہے اس قسم کی جو ایک احمدی کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا ہونی چاہئے کہ اس کے بغیر ہم اپنی ذمہ داریوں کو نباہ نہیں سکتے۔بعض دفعہ محبت کا زبانی دعویٰ ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جس قسم کی محبت ہمارے دل میں ہونی چاہئے وہ محض زبان کا دعوی نہیں ہونا چاہئے۔بعض دفعہ محبت حقیقی ہوتی ہے لیکن انسان اپنی عادت سے مجبور ہو کر یا بعض اپنی اخلاقی کمزوریوں سے مجبور ہو کر (اخلاقی کمزوری سے مراد میری بداخلاقی نہیں ) ایسی جرات نہیں رکھتا کہ وہ میدان جنگ میں بھی لڑ سکے۔اس قسم کی کمزوریوں کے نتیجہ میں محبت کا عملی اظہار نہیں کر سکتا۔یعنی گو محبت حقیقی ہوتی ہے لیکن عملاً اس کا اظہار نہیں ہوتا لیکن خدا تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع