خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 210

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۰ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔مسجد یہ بھی ہے جو ڈنمارک میں انہوں نے بنائی ہے۔غرض اس طرح ہمیں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی خدمت کی بھی توفیق دے دی۔جرمنی ، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، ڈنمارک اور انگلستان کے اخبارات نے بڑی کثرت سے نوٹ لکھے اور بڑی کثرت سے تصاویر شائع کیں اور اخباروں نے میری وہ بات جو میں انہیں پہنچانا چاہتا تھا میرے الفاظ میں شائع کر دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ تلے آجاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔یہ خدا کی شان ہے کہ جو تراشے اس وقت تک ہمارے پاس آچکے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ ۱۳۶ اخبارات نے ہماری تصاویر اور خبروں کو بڑی نمایاں جگہ دی ہے بعض اخباروں نے پورا ایک صفحہ دیا ہے۔اس طرح ڈنمارک سے ۱۸۲ تراشے آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ سو کے قریب ایسے ہیں جنہوں نے نصف صفحہ پونا صفحہ یا پورا صفحہ کے نوٹ دیئے ہیں۔ایڈیٹوریل لکھے ہیں۔وہاں ایک چرچ بلیٹن شائع ہوئی۔اس میں ایک پادری نے مسجد کے افتتاح کی تقریب کے متعلق اپنے مطلب کا ایک نوٹ دیا ہے اور اس نے اس کو شروع اس طرح کیا ہے کہ وہ ڈنمارک کے ایک باشندے کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔آر یواے مسلم ود آؤٹ نوئنگ راٹ (Are you a muslim without knowing it) یعنی تم مسلمان ہو اور تمہیں پتہ نہیں کہ تم مسلمان ہو اور آگے لکھا ہے کہ ڈنمارک کے رہنے والوں کے عقائد بالکل مسلمانوں والے ہیں وہ اس طرح ایک دوسرے کے مشابہ ہیں جیسے پانی کے دو قطروں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ( وہ اتنے آئی ڈنٹی کل (Identical) ہیں کہ لائیک ٹو ڈراپ آف واٹر (like two drops of water ) اور پھر آگے رونا رویا ہے کہ یہ کوئی عیسائیت نہیں اور پھر اس نے یہ فرق بتایا ہے کہ یہ مسیح کو رسول کہتے ہیں اور جس میں اللہ تعالیٰ نے حلول کیا تھا اس کو خدا نہیں مانتے اور یہ کہ وہ مر گیا تھا اور اس کے بعد اور رسول بھی آئے ہیں۔اور یہ تو عیسائیت نہیں ، عیسائیت تو یہ ہے کہ خدا خود نازل ہوا اور ایک انسانی جسم میں اس نے حلول کیا۔غرض اس نے اپنے سب پرانے عقائد کا ذکر کیا ہے جن کو وہ خود چھوڑتے چلے جارہے ہیں۔بہر حال وہاں کے اخبارات نے بڑی بڑی تصاویر بھی دی ہیں اور نوٹ بھی لکھے ہیں پھر میں نے سوچا جس طرح میں نے کہا میں نے ایک تقریر میں بیان بھی کیا تھا کہ اگر ۳۶ انہیں ایک کروڑ چھتیس لاکھ اخبار بھی لکھتا لیکن لوگ اس کی طرف متوجہ نہ ہوتے تو ان کا