خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 202

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۲ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب اللہ تعالیٰ نے ماریشس میں ایک انقلاب پیدا کیا۔ہمارے مبلغ اسماعیل منیر صاحب (جو بڑے مخلص کارکن ہیں لیکن جسمانی لحاظ سے بڑے کمزور ہیں چوبیس گھنٹے کام کرنے والے ہیں اور صحیح وقف کی روح ان کے اندر ہے دوست ان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں ) ابھی وہاں پہنچے نہیں تھے یہاں سے روانہ ہو گئے تھے۔اس وقت مجھے رؤیا میں ایک نظارہ دکھایا گیا اور اس کی صحیح تعبیر اس وقت میرے ذہن میں نہیں آئی تھی میرے ذہن میں اس وقت دو تعبیر میں آئیں کہ یا یوں ہوگا اور یا یہ دوسری شکل اختیار کرے گا۔اگر پہلی تعبیر ہوتی تو اس میں انذار کا پہلو بڑا نمایاں تھا اور دوسری تعبیر میں تبشیر کا پہلو نمایاں تھا اور اس بات کا پتہ لگتا تھا۔ان کے وہاں پہنچنے پر کہ اس کی اصل تعبیر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان دنوں میں بہت دعائیں کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس رویا کے انذاری پہلو سے ہمیں محفوظ رکھے جس وقت وہ وہاں پہنچ گئے۔تو انذاری پہلو کا واقع ہونا ناممکن بن گیا تب مجھے سمجھ آئی کہ اس رؤیا کی وہی تعبیر صحیح تھی جو تبشیری رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔میں نے انہیں اسی وقت لکھ دیا تھا کہ میں نے یہ رویا دیکھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ اس طرح ہوگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق وہاں کچھ تبدیلیاں کرنی شروع کی ہیں۔وہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی فعال ہے بڑے پیسے خرچ کرتی ہے۔خود کفیل ہے ان کے اخلاص اور مستعدی کا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ( شاید یہاں بھی لوگ اس کی جرات نہ کرسکیں ) کنکریٹ یعنی سیمنٹ اور لوہے کی چھت جو ایک خاص قسم کی ہوتی ہے۔اس کے نیچے ایک عارضی چھت بنائی جاتی ہے۔پھر اس کے اوپر سلیپ ڈالا جاتا ہے۔وہاں کے مشن ہاؤس پر اس قسم کا چھت وہاں کے احمدیوں نے وقار عمل کے ذریعہ سے ڈالا ہے اور مزدوری پر ایک پیسہ بھی ضائع نہیں کیا۔پھر وہ اپنا ایک سکول کھول رہے ہیں۔بڑی ہمت والی جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی ہمتوں کو قائم رکھے اور بہترین جزا ان کے اعمال کی انہیں دے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ ماریشس والوں کو ایک اور نشان بھی دکھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ۲۲ نومبر کو امام اسماعیل منیر نے مجھے خط لکھا ان کے الفاظ یہ ہیں۔”ہمارے ہاں فرانس سے ایک پادری آیا ہے۔جو دو تین ہفتوں سے عیسائیت کا پرچار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مسیح نے حکم دیا ہے کہ جا کر ساری دنیا کو انجیل کا پیغام دوں اور بیماروں کو