خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 197
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۷ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تقاریر اور خطبات وغیرہ اکھٹے کر کے دیدہ زیب شائع کئے جائیں اور منصوبے میں عید کے خطبات کو ترجیح دی گئی ہے اور ایک حصہ کا مواد جو ۱۹۵۳ء تک کے خطبات پر مشتمل ہے جمع ہو چکا ہے اور عنقریب شائع ہو جائے گا انشاء اللہ۔دوسرے نمبر پر نکاح کے خطبات کو رکھا گیا ہے تیسرے نمبر پر خطبات جمعہ اور چوتھے نمبر پر دیگر ملفوظات و تقاریر ہیں۔عیدین کے خطبات کی ایک جلد بڑی جلد آپ کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گی۔قلیل المیعاد منصوبہ نمبر یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے جامع سوانح حیات مرتب کر کے شائع کئے جائیں۔یہ کام محترم ملک سیف الرحمان صاحب کے سپرد ہے۔وہ اس وقت ایک ایڈیٹوریل بورڈ کی راہنمائی میں کام کر رہے ہیں اس ایڈیٹوریل بورڈ کے اراکین یہ ہیں۔ا محترمی مخدومی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ۲ - محتر می مخدومی قاضی محمد اسلم صاحب محترمی مخدومی شیخ محمد احمد صاحب مظہر محترمی مخدومی ابوالعطاء صاحب ۵- محترمی مخدومی میر محمود احمد صاحب محترمه مخدومه حضرت سیدہ ام متین صاحبه یہ کام شرع ہو چکا ہے اور ایک منصوبہ کے مطابق ہو رہا ہے اس پر وقت تو لگے گا لیکن جو کام شروع ہو جائے وہ بہر حال اپنے نیک انجام تک پہنچ جاتا ہے۔قلیل المیعاد منصوبہ نمبر ۳ اہل علم اصحاب سے دینی مسائل پر تحقیقاتی تصنیفات تیار کرانا۔اس کے لئے فضل عمر فاؤنڈیشن نے ایک ایک ہزار روپیہ کے پانچ انعامات مقرر کئے ہیں۔اس سلسلہ میں پہلے سال کے لئے باون احباب کی طرف سے نام آچکے ہیں یہ تعداد بڑی خوش کن ہے کہ جنہیں اہل قلم بننا چاہئے وہ اہل قلم بنے کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں۔ایک قلیل المیعاد منصوبہ یہ ہے کہ ایک لائبریری کی بلڈنگ فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے بند کر صدرانجمن احمدیہ کے سپر د کر دی جائے۔یعنی بلڈنگ کے جو اخراجات ہیں وہ فضل عمر فاؤنڈیشن