خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 196
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۶ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب وہ لوگ بڑے پیچھے ہیں اور تربیت میں بھی پیچھے ہیں۔بعض دفعہ ایک شخص پانچ ہزار روپیہ بھی دے دے گالیکن کہے گا کہ آگے تقسیم کا مجھے علم نہیں تم خود تقسیم کر لو۔اب انہیں آہستہ آہستہ عادت ڈال رہے ہیں۔بہر حال فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے ان کے وعدے ایک لاکھ سترہ ہزار چھ سو تہتر (۱۱۷۶۷۳) روپے کے ہیں لیکن وصولی ابھی بہت کم ہے یعنی ابھی تک صرف سات ہزار روپے وصول ہوئے ہیں۔مشرق وسطی کی جماعتوں کے وعدے ترین ہزار دوسو پینسٹھ (۵۳۲۶۵) روپے کے تھے اور سولہ ہزار نو سو (۱۶۹۰۰) روپے وصول ہوئے ہیں۔یعنی قریباً ایک تہائی وصول ہو چکا ہے۔جنوب مشرقی ایشیاء کے وعدے تین لاکھ چونتیس ہزار چارسوستاسی (۳۳۴۴۸۷) روپے کے تھے جن میں سے ایک لاکھ ستر ہزار آٹھ سو باون (۱۷۷۸۵۲) روپے کی وصولی ہوئی ہے۔غرض خدا تعالیٰ کے فضل سے وعدے بھی توقع کے برابر ہی چل رہے ہیں اور وصولی بھی اس حساب سے ہو رہی ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن (جو ایک رجسٹر ڈ باڈی ہے ) نے مکرمی مخدومی چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے کہ جو مختلف امور پر غور کرتی اور کام کو سنبھالتی ہے انہوں نے کچھ رقوم بعض ایسی لمیٹڈ کمپنیوں کے حصے خریدنے میں لگائی ہیں جو منافع دیتی ہیں کسی سال کم منافع دیتی ہیں اور کسی سال زیادہ اور ۱۹۶۷ء میں انہیں مختلف مدات میں سینتالیس ہزار ایک سوستر (۴۷۱۷۷) روپے کی آمد ہوئی ہے اور سارے خرچ نکالنے کے بعد قریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپیہ بچ گیا ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا کام رو پیدا اکٹھا کرنا نہیں بلکہ بعض خاص کام ہیں ان کاموں کے سرانجام دینے کے لئے اس فاؤنڈیشن کا اجراء کیا گیا ہے لیکن چونکہ ان کاموں کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی اس لئے روپیہ حاصل کیا گیا اور یہ مفید ہوا کہ اس روپیہ کی آمد سے وہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں گے جن مقاصد کے لئے فضل عمر فاؤنڈیشن کو جاری کیا گیا ہے۔جو منصوبے ابھی تک انہوں نے تیار کئے ہیں وہ دوستم کے ہیں ایک قلیل المیعاد اور ایک طویل المیعاد قلیل المیعاد منصوبے آگے کئی قسموں میں منقسم ہیں۔ایک منصوبہ یہ ہے کہ