خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 191

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۱ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب 66 جواہر پارے“ شائع ہوئے ہیں۔پھر لجنہ اماء اللہ کا رسالہ "مصباح ریویو آف ریلیجنز “ ہے جو انگریزی میں ہمارا پایہ کا اخبار ہے۔دوست اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ فائدہ اٹھاتے ہیں آخر یہ اخبار اور رسالے اس لئے شائع نہیں کئے جاتے کہ کچھ لوگ اپنا وقت ضائع کر رہے تھے۔ہم نے سمجھا کہ ان کے وقت کو ضیاع سے بچانے کے لئے انہیں کسی کام پر لگا دیا جائے۔ہر ایک رسالہ یا کتاب جو شائع ہوتی ہے اس پر وقت خرچ کیا جاتا ہے تو اس لئے کہ ہم اسلام کو غالب کرنے کی کوئی مہم سرکریں یا بعض لوگوں کو اس مہم کے سر کرنے کے لئے تربیت دیں۔ہر احمدی کے کان وہ آواز روزانہ پڑنی چاہئے جو تربیت کے لئے یاد نیا کی اصلاح کے لئے مرکز احمدیت سے اٹھتی ہے اس طر ف جماعت جواب توجہ دے رہی ہے اس سے زیادہ توجہ دینی چاہئے اور توجہ دینی پڑے گی۔آج کی تقریر مختلف عنوانوں پر یا مختلف جماعتی تنظیموں کے متعلق مختلف امور پر مشتمل ہوتی ہے۔میں بعض باتیں مختلف تحریکوں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔جن میں پہلی وقف عارضی کی تحریک ہے۔قریباً ہیں ماہ ہوئے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے منشاء کے مطابق میں نے وقف عارضی کی تحریک کا اجراء کیا تھا اور دسمبر کے آخر تک ۵۵۲۲ دوستوں سے اس وقف میں خود کو پیش کیا لیکن ان میں سے بعض دوست جائز مجبوریوں کی وجہ سے اس میں عملاً حصہ نہیں لے سکے ان کی معین تعداد کے متعلق دفتر نے مجھے کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا اندازہ ہے کہ وہ سو اور دوسو کے درمیان ہے میں نے زیادہ احتیاط کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ہزار کی تعداد کو لے لیا کہ اتنے دوستوں نے اس عرصہ میں وقف عارضی کے منصوبہ کے ماتحت دو ہفتے کم از کم جماعتوں کی تربیت میں گزارے ہیں۔جب ہم مجموعی وقت کا شمار کرتے ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ واقفین نے مجموعی طور پر قریباً دو صدیاں کام کیا ہے یعنی اتنے ہفتے انہوں نے وقف عارضی کے کام میں گزارے ہیں جتنے ہفتے دو سو سال میں ہوتے ہیں۔ایک سال میں باون ہفتے ہوتے ہیں۔اب باون کو دوسو کے ساتھ ضرب دیں تو جو ہفتوں کی تعداد بنتی ہے اتنے ہفتے واقفین عارضی نے اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے گزارے ہیں۔بہر حال یہ مدت قریباً دوسو سال بنتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوسو مبلغ جنہیں ہم معاوضہ دیں سال بھر کام کریں تو اتنا کام اس تحریک کے ذریعہ ہو چکا ہے اور اگر روپیہ کی شکل میں اس کام کا اندازہ لگایا جائے اور مزدور کی مزدوری شمار کی جائے یعنی جس شخص نے وقف عارضی میں کام کیا ہے اس کی یومیہ مزدوری ایک مزدور کی اجرت کے مطابق تین