خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 173
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۷۳ ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ثابت کرو کہ کسی مدعی نے یہ دعوی کیا ہو کہ میرے دعوئی کی حقانیت پر یہ دلیل ہے کہ اس طرح چاند اور سورج کو گرہن لگے گا تو میں جھوٹا ہوں لیکن کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔اور واقعہ ہو گیا۔جب واقعہ ہو گیا تو کہنے لگے کہ حدیث جھوٹی ہے۔لیکن اگر چہ حدیث جھوٹی ہوتی ہے تو اس کو سچا ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تار کیسے ہل گئے۔اللہ تعالیٰ کو اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔جو ہوتا ، ہوتا رہتا۔عجیب بات ہے کہ یہ حدیث جھوٹی اور جس کے حق میں ہے وہ جھوٹا یہ اتفاق جھوٹا کہ دونوں واقعات ایک زمانہ میں اکٹھے ہو گئے تو سارے واقعات جھوٹے اور سچ وہ ہے جو واقعہ ہی نہیں۔انسانی عقل تو اس کو تسلیم نہیں کرتی۔یہ ایک بہت بڑا ز بر دست نشان ہے اور دو نشان ہیں دو سالوں میں یکے بعد دیگرے دنیا کے دو حصوں میں ساری دنیا پر یہ نشان ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے ایسا انتظام کیا کہ ایک سال ہماری دنیا میں اور ایک سال دوسری دنیا میں وہ نشان بعینہ ان تاریخوں میں اور اس شکل میں ظاہر ہوا اور اس کے مطابق ظاہر ہوا جو حدیث تھی۔بہر حال جب یہ نشان ظاہر ہوا تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اگر معقولی رنگ میں تم بحث نہیں کرنا چاہتے اور تم منقولات کی طرف ہی آگئے ہو تو یہ بتاؤ کہ وہ کون سے بزرگ حدیث دان اور حدیث کے عالم تھے۔جنہوں نے آج سے پہلے اس حدیث کو جھوٹا قرار دیا ہوا اگر تم کوئی ایسا عالم نکال دو۔جس نے یہ کہا ہو کہ یہ حدیث جھوٹ ہے۔تب میں سمجھوں گا کہ میری سچائی پر یہ دلیل نہیں بنتی لیکن وہ کوئی ایسا عالم پیش نہیں کر سکے۔یہ حدیث دار قطنی میں آتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔کہ ”اس ( دار قطنی ) کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ گزر گیا مگر اب تک کسی عالم نے اس حدیث کو زیر بحث لاکر اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔نہ یہ کہا کہ اس کے ثبوت کی تائید میں کسی دوسرے طریق سے مدد نہیں ملی بلکہ اس وقت سے جو یہ کتاب ممالک اسلامیہ میں شائع ہوئی تمام علماء و فضلاء متقدمین و متاخرین میں سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے۔بھلا اگر کسی نے اکابر محدثین میں سے اس کو موضوع ٹھہرایا ہے تو ان میں سے