خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 149

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۹ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا“ (اشتہار مفید الا خیار ضمیمه سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۱۳) یہ دعوت فیصلہ اب بھی قائم ہے اور میں اور ہماری جماعت اس کی ذمہ دار ہیں اور طریق فیصلہ یہ ہوسکتا ہے کہ تین ثالث یا منصف فریقین (اگر ہندو مقابلہ پر آئیں تو وہ ایک فریق بن جائیں گے اور اگر عیسائی مقابلہ پر آئیں تو وہ ایک پارٹی بن جائیں گے یا ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مذہب مقابلہ پر آئے تو وہ ایک فریق قرار پائے گا) کی رضا مندی سے مقرر کئے جائیں جن کا متفقہ فیصلہ ہر دو فریق کے لئے مانا ضروری ہو۔اگر فیصلہ اسلام کے خلاف ہو تو فی اعتراض پچاس روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے مطابق دوسرے فریق کو دے دیا جائے گا اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ بات ناممکنات میں سے ہے لیکن میں ہر اس مذہب کو اور اس کے راہنماؤں کو جو اسلام کے اصولوں کو درست نہیں سمجھتے کہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا آسان اور مہذب طریق فیصلہ ہے یا آپ جیتیں گے ( جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں ) اور قرآن کریم مغلوب ہوگا ( جیسا کہ آپ خیال کرتے ہیں) یا قرآن کریم غالب ہوگا اور آپ مغلوب ہوں گے۔قرآن کریم جیتے گا اور آپ شکست کھا ئیں گے۔دو میں سے ایک صورت ضرور ہوگی اور قرآن کریم غالب ہو گیا اور اس پر اعتراضات کئے جائیں گے اگر وہ اعتراضات نہ رہے بلکہ وہ اس کی خوبصورتی کی نشانیاں ثابت ہوئے اور ان جگہوں سے صداقت کے خزانے نکلے جن پر اعتراضات کئے گئے ہیں تو تم خدا تعالیٰ کی خاطر خدا کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام میں داخل ہو جانا اور خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی برکات سے فائدہ اٹھانا اور اگر جیسا کہ تمہارا یہ خیال ہے ہم مغلوب ہوں اور تم غالب آئے تو تمہاری تبلیغ اور پروپیگنڈا کو اس سے بہت مدد ملے گی۔پس یہ سراسر تمہارے فائدہ کی بات ہے آؤ اور شرافت کے ساتھ اس میدان میں اسلام کے مقابلہ پرنکلو اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ ہماری تائید کس طرح کرتا ہے اور اپنے فضل سے آسمانی نور کو نازل کر کے انہی جگہوں میں جن کو تم قابل اعتراض سمجھتے ہو اور اعتراض کی جگہ قرار دیتے ہو کس طرح معرفت اور حکمت کے خزانے نکالنے کی ہمیں تو فیق عطا کرتا ہے۔اس دعوت فیصلہ کے مخاطب تمام غیر مذاہب کے سر براہ ہیں خصوصاً عیسائیوں میں سے کیتھولک فرقہ کے سربراہ جو پوپ کہلاتے ہیں۔پس اگر پوپ صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیت حق