خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 126

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) پیدا کر دے۔۱۲۶ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔:۔دوست ریٹائرمنٹ کے بعد زندگیاں وقف کریں پچھلے سال میں نے یہ درخواست کی تھی جماعت سے کہ بہت سے لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت جب وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے ہیں ایسی اچھی صحت میں ہوتے ہیں کہ وہ بڑے لمبے عرصہ تک دین کی خدمت کر سکتے ہیں ایسے دوست اگر ابھی سے اپنی زندگیوں کو وقف کریں تو ہمیں یہ پتا ہوگا کہ فلاں دوست فلاں سن میں ریٹائر ہو رہے ہیں اس کے مطابق ہم سے اللہ تعالیٰ نے احمدی کو عقل اور فراست بڑی دی ہے چاہے ان کے امام کو غیر مبائعین کے نزدیک نہ دی ہو صرف حمق دیا ہو تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا میرے حمق سے بھی یہ جماعت اپنے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ضرور نکال لے گی۔ویسے آپ بھی دعا کریں اور میں بھی دعا کرتا ہوں۔عقل دینا اور فراست دینا تو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔کوئی شخص اس سے یہ چیز چھین نہیں سکتا وہ عطا کرے تو ہم شکریہ کے ساتھ لے لیں گے جتنی دے گا جس حد تک دے گا اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کا امام بناتا ہے اس کی کمزوریوں کے باوجود اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہونے دیتا جو جماعت کو نقصان پہنچانے والی ہو اور اتنی فراست مل جائے تو اس سے زیادہ کی امام کو ضرورت بھی نہیں ہوتی تو جماعت کو جیسا کہ میں کہ رہا تھا اللہ تعالی نے بڑی فراست اور عقل عطا کی ہے ایک طرف اور دوسری طرف بڑا جذ بہ دیا ہے پچھلے سال جب میں نے تقریر کی متعدد دوستوں کے مجھے خط آئے اور نئی سے نئی تجاویز۔اُنہوں نے سوچا غور کیا کہ جیسے اس کی ذمہ داری ویسی ہماری بھی ذمہ داری ہے۔ہمیں بھی کچھ سوچنا چاہئے اور کام میں مدد کرنی چاہئے۔مثلاً ایک دوست نے ایسی اچھی تجویز مجھے بھجوائی بلکہ ایک سے زائد دوستوں نے کہ آپ نے کہا ہے ریٹائر ہو کر فارغ اپنی ملازمت کا زمانہ پورا کر کے وقف کرو۔اس وقت اگر ہم آئے دینی علوم کے لحاظ سے بالکل خالی تو آپ کو سال دو سال تین سال ہمیں پڑھانے پر خرچ کرنا پڑے گا۔ہم تو پہلے ہی موت کے قریب ہوں گے یہ سال ضائع ہو جائیں گے۔ہم میں سے جو وقف کرے پڑھانا شروع کر دیں۔ہم میں سے کسی نے پانچ سال ملازمت کے بعد فارغ ہونا ہے کسی نے دس سال