خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page viii of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page viii

۶ کہ ہمیں کوئی منصوبہ بنانا چاہئے تاکہ ہم تیاری کریں اس صدی کے جشن کو منانے کی لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ۱۹۸۹ ء کا سال بڑا ہی اہم سال ہو گا اس لئے میری طبیعت کا میلان سو سالہ جشن منانے کی طرف اتنا نہیں (وہ بھی ہم نے منانا ہے ) جتنا دوسری صدی کے استقبال کی تیاری کی طرف میرا میلان ہے۔(صفحہ ۶۴۷، ۶۴۸ جلد ھذا) (۹) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء کو جلسہ سالانہ پر اختتامی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔اشاعت اسلام کا یہ جامع منصوبہ ہے جسے میں نے مختصر بیان کر دیا ہے۔دنیا کا ہر منصوبہ روپیہ چاہتا ہے مثلاً جو براڈ کاسٹنگ اسٹیشن لگانے پر روپیہ خرچ ہوگا۔قرآن کریم کے تراجم روپیہ خرچ ہو گا۔سو زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر بہت رقم خرچ آئے گی۔منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک معقول رقم کی ضرورت ہے۔اس کو ہم ” صد سالہ احمد ہے جو بلی فنڈ“ کا نام دیتے ہیں۔تو ہمیں اس فنڈ کے لئے رقم کی ضرورت ہے۔اس کی آخری شکل تو سولہ سال کے بعد بنے گی۔سردست اس کے لئے جتنی رقم کی اپیل کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اڑھائی کروڑ روپیہ ہے۔ہوسکتا ہے کہ جماعت اگلے سولہ سال میں اشاعت اسلام پر ۵۰ کروڑ روپے خرچ کرنے لگ جائے۔“ (صفحہ ۶۷۸،۶۷۷ جلد ھذا) خطابات ناصر کی دوسری جلد انشاء اللہ تعالیٰ حضور انور کی تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۷۴ء تا ۱۹۸۱ء پر مشتمل ہوگی۔