خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 61

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کئے گئے ہیں۔فرانسیسی زبان میں ترجمہ مکمل ہو چکا ہے نظر ثانی ہو رہی ہے ہسپانوی زبان میں رجمہ مکمل ہو چکا ہے نظر ثانی ہو رہی ہے۔اٹالین زبان میں ترجمہ مکمل ہو چکا ہے۔نظر ثانی ہو رہی ہے۔روسی زبان میں ترجمہ مکمل ہو چکا ہے نظر ثانی کروانی باقی ہے۔پرتگیزی زبان میں ترجمہ تیار ہے نظر ثانی کروانی باقی ہے۔ڈینش زبان میں بقیہ تیس پاروں کا ترجمہ مع تفسیری نوٹ تیار ہے۔طباعت کا انتظام کیا جا رہا ہے مشرقی افریقہ کے لئے کیکو یو زبان میں ترجمہ تیار ہے نظر ثانی کروانی باقی ہے۔کیکامبا زبان میں ترجمہ تیار ہے نظر ثانی کروانی باقی ہے مغربی افریقہ کے لئے مینڈی زبان میں بقیہ ۲۹ پاروں میں سے ۲۰ پاروں کا ترجمہ ہو چکا ہے 9 پاروں کا ترجمہ کروایا جا رہا ہے۔انڈونیشین زبان میں دس پاروں کا ترجمہ مع مختصر تفسیری نوٹ مکمل ہے بقیہ بھی زیر تکمیل ہے۔تراجم قرآن کریم کے علاوہ بہت سی کتب کا حضور نے مختلف زبانوں میں ترجمہ کروایا اور ان کی اشاعت کروائی مثلاً احمدیت یعنی حقیقی اسلام، اسلامی اصول کی فلاسفی وغیرہ جن کتابوں کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کروایا گیا ہے۔ان کی فہرست بڑی لمبی ہے۔یہاں بیان نہیں کی جاسکتی غرض قرآن کریم کے علوم اور معارف جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے تھے۔ضروری تھا کہ ان کو کثرت سے دنیا میں پھیلایا جاتا اور یہ کام ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ ان کے تراجم دوسری زبانوں میں نہ کرائے جاتے اور اس کام کو بڑی حد تک حضرت مصلح موعودؓ نے پورا کیا اور بہت سا کام باقی ہے وہ انشاء اللہ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔پھر دنیا اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ بنی نوع انسان پر ظاہر کرنے کے لئے تمام دنیا میں مساجد کا ایک جال پھیلایا جانا ضروری تھا۔حضور نے اس کی طرف بھی خاص توجہ دی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک کئی ممالک میں مساجد تعمیر کروائی جاچکی ہیں۔مساجد کے متعلق یا د رکھنا چاہے کہ مساجد دینی علوم سیکھنے کے لئے درس گاہوں کا کام دیتی ہیں اور تربیت کے لئے مساجد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔اگر مسجد کو اخلاص، نیک نیتی اور اس 66 عَلَى التَّقْوى مِنْ أَوَّلِ يَوْم " کے طور پر بنایا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر ایک نمازی بھی نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس قسم کی مساجد کے لئے نمازی پیدا کر دیتا ہے۔غرض مساجد انسانی معاشرہ کے اندر بڑا ضروری کردار ادا کرتی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرف