خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 708 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 708

۴۴۸ ۴۵۲ ۴۵۲ ۴۵۳ ۴۶۱ ۴۶۱ ۴۶۹ ۴۶۹ ۴۷۰ ۴۸۹ ۲۸ نیستی ہمارے وجود کی اصلیت اور حقیقت ہے ۳۴۸ جماعت کے ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیئے جب تک قوم شکر کے اس مقام پر رہے گی کہ جماعت ایک وجود ہے اور ہم اس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتی چلی جائے گی کا ایک حصہ ہیں ۳۶۳ اللہ تعالیٰ کی حمد سے اپنی زندگیوں، اپنے اوقات انڈونیشیا کی جماعت کثرت تعداد اور اپنے دنوں اور اپنی راتوں کو معمور کر دو کثرت ایثار اور قربانی کے لحاظ سے آپ جومل چکا ہے اس کو صحیح مصرف میں لاؤ اور کے مقابلہ میں کھڑی ہے اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جماعت احمدیہ کی ترقی حاصل کرنے کے جو لمحے ہم ایک سال میں گزارتے ہیں وہ لئے نشان آسمانی اور تائیدات سماوی کی محدود ہیں لیکن نعمتیں غیر محدود ہیں ضرورت ہے ۳۷۱ آپ کو ابراہیمی پرندے بننا پڑے گا تب جماعت یہ انتظام کرے کہ کثرت سے بچے ہمارے کام پورے ہوں گے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوں ہم ایک غافل انسان کے دشمن نہیں ہیں ہم نا پا کی کے دشمن ہیں ہم بدی کے دشمن ہیں لیکن ہم بد کے دشمن نہیں ۴۲۸ ۴۲۸ جماعت کی دوسری نسل کے اوپر بھی کم ذمہ داری نہیں کیونکہ ابھی خلافت کا سلسلہ جاری ہے دنیا کے نعروں کا جماعت پر کیا فرق پڑا یا کیا سکتا؟ ہم اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے والے کے بھی پڑ سکتا ہے دشمن نہیں ہاں ان کی گالیوں کے ہم دشمن جماعت احمدیہ کے جسم میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا خون ہے ۴۲۹ ہیں اس بدی کے ہم دشمن ہیں اللہ تعالیٰ ہر روز ہمیں اپنی کامل قدرتوں کے تم تو اچھے خادم ہو آج نہیں تو کل دنیا تمہیں نظارے دکھاتا تھا ۴۲۹ پہچانے گی عزیز از جان بھائیو، بہنوں اور بچو! ہمارے دنیا تم سے جو مرضی ہے دشمنی کرتی رہے تم محبوب و مقصود رب کریم کے آپ پر کسی کے دشمن نہیں ہو تم تو خادم ہو ہزاروں سلام ہوں اللہ تعالیٰ تمہیں وہ کچھ دے گا کہ قیامت تک تمہاری نسلیں تم پر فخر کریں گی ۴۳۱ جماعت احمدیہ کے لئے آج تمام دنیا کے دل جیتنے کا پہلا وسیلہ شرف انسانی کا ۴۳۹ قیام ہے