خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 60
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اس کے ذریعہ ظاہر ہونے والے علوم و معارف کا ترجمہ تمام دنیا کی زبانوں یا دنیا کی ان زبانوں میں ہونا ضروری تھا۔جو دنیا کے اکثر حصوں میں بولی اور مجھی جاتی ہیں مجھے ابھی خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو تد بیر کی کہ دنیا کے بہت سے ممالک صرف دو تین قوموں کے سیاسی اقتدار کے نیچے آگئے۔اس میں دنیا کے لئے ایک بڑا روحانی فائدہ مضمر تھا اور وہ فائدہ یہ تھا کہ اشاعت اسلام کا کام آسان ہو جائے۔ورنہ مسیح محمدی کے زمانہ میں اس وقت تک آپ کا پیغام تمام دنیا میں نہیں پہنچ سکتا تھا جب تک دنیا کی ساری زبانوں میں اس کا ترجمہ نہ کیا جاتا چونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت دنیا کی اقوام میں سے کچھ تو میں انگریزوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں کچھ فرانسیسیوں کے اقتدار کے نیچے آ گئیں اور کچھ جرمنوں کے اقتدار کے نیچے آگئیں۔اس لئے ہم اسلام کا پیغام ان تین زبانوں کے ذریعہ اقوام عالم کی خاصی بڑی تعداد تک پہنچا سکتے ہیں۔اگر روسی اور چینی بھی شامل کر لئے جائیں تو پھر میرا خیال ہے کہ اسی نوے فیصدی آبادی کو ہمارا پیغام پہنچ جاتا ہے۔ورنہ ہمارے لئے بہت زیادہ جد و جہد اور کوشش اور قربانیوں اور مال خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی اللہ تعالیٰ کے سارے ہی کام حکمت سے پُر ہوتے ہیں۔اللہ اکبر۔غرض یہ ضروری تھا کہ ان علوم و معارف کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کروایا جا تا چنانچہ اس کی طرف حضور نے خاص توجہ دی اور بڑی کوشش فرمائی سب سے ضروری کام تو قرآن کریم کے حیح تراجم کا دنیا میں پھیلانا تھا۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضور نے جو کام شروع کروائے ان میں سے کچھ تو پورے ہو گئے ہیں اور کچھ پورے ہونے والے ہیں۔انگریزی زبان میں ترجمہ قرآن کریم (جیسا کہ آپ جانتے ہیں ) شائع ہو چکا ہے اس طرح تفسیر القرآن بھی شائع ہو چکی ہے۔جرمنی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے نیز سورۂ کہف کی تفسیر بھی شائع ہو چکی ہے ڈچ زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے ڈینش زبان میں قرآن کریم کے پہلے سات پاروں کا ترجمہ مع مختصر تفسیری نوٹ شائع ہو چکا ہے۔مشرقی افریقہ کے لئے سواحیلی زبان میں ترجمہ مع مختصر تفسیری نوٹ شائع ہو چکا ہے۔لو گنڈی زبان میں قرآن کریم کے پہلے پانچ پاروں کا ترجمہ مع تفسیری نوٹ شائع ہو چکا ہے۔مغربی افریقہ کے لئے مینڈی زبان میں پہلے پارہ کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے اس کے علاوہ کئی تراجم