خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 667 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 667

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب زیادہ تعلق ہے اور اسی لئے ان کی کتب میں امام مہدی کا نقشہ دوسرے فرقوں کی نسبت زیادہ صحیح کھینچا گیا ہے۔ایک دو جگہ ان کو مسئلہ سمجھ نہیں آیا۔اگر ہم دو تین الجھی ہوئی باتیں ان کو سمجھا دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ اصحاب ہم سے بہت قریب ہیں۔باقی جہاں تک آنے والے کا حکم ہونے کا تعلق ہے یہ تو شیعہ بھی مانتے ہیں کہ وہ حکم ہوگا۔بہر حال وہ نسبتا قریب بھی ہیں اور ان کے دلوں میں مہدی کی عظمت بھی ہے۔اگر ہم ان پر یہ ثابت کر دیں کہ تمہاری اپنی کتب میں مہدی کی صداقت کے جو نشانات بتائے گئے تھے وہ پورے ہو چکے ہیں اس لئے مہدی جو آنا تھا وہ تو آ گیا۔اب اس کو تلاش کرنا اور اس کو قبول کرنا اور اس کی برکتوں سے حصہ پانا یہ تمہارا کام ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ جلد صداقت کو قبول کر لیں گے۔پس عربی میں قرآن کریم کی تفسیر اور فارسی میں قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر ، چینی زبان میں روسی زبان میں ، فرانسیسی زبان میں ، اٹالین زبان میں، یوگوسلاوین زبان میں سپینش زبان میں، مغربی افریقہ کی تین زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کروانا، ان پر نظر ثانی کرنا اور ان کو اشاعت کے لئے تیار کرنا، ان کی طباعت کرانا، اور طباعت پر خرچ کرنا اس پر ہی پچاس ساٹھ لاکھ روپے کے خرچ کا اندازہ ہے۔تاہم اس پر جتنا بھی خرچ آئے کرنا پڑے گا کیونکہ یہ کام بہت ضروری ہے۔سوم :۔اس منصوبہ کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ اسلام پانچ دس ممالک کے لئے تو نہیں آیا۔نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ ہیں قوموں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔اسلام تو رب العالمین کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ للعالمین بنا کر نوع انسانی کو مخاطب کرتا ہے کہ میں تمہاری بھلائی کے لئے آیا ہوں اور دنیا میں اعلان کیا جاتا ہے کہ امت محمدیہ کا قیام الخرجَتْ لِلنَّاسِ ہے۔الناس ، یعنی انسانوں کی مردوزن کی بھلائی کے لئے ہے۔پس ہما را خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں ، وہ صرف اسرائیل کا خدا نہیں یا وہ صرف ہندوؤں کا خدا نہیں ہے۔وہ رب العالمین ہے۔اس نے سب جہانوں کو پیدا کیا اور وہی خدا ان کی ربوبیت کرتا ہے۔بڑی عظمت والا ہے ہمارا خدا۔پھر وہ عالمین جن کے کناروں تک ہمارا ابھی تخیل بھی نہیں پہنچا اس کو بھی اس نے یہ کہا کہ میں نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں انسان کی ایک نسل پیدا کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں اس کی خدمت پر لگانا چاہتا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بڑی طاقتیں عطا فرمائیں -----