خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 663
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب تھی۔اب اس دفعہ سفر کے دوران میں نے ایک ملک میں مراکش کے سفیر کو بتایا کہ ہم فرانسیسی میں قرآن کریم کا ترجمہ عنقریب شائع کرنے والے ہیں۔تو وہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے ہم سے یہ وعدہ لیا کہ جب بھی یہ قرآن کریم شائع ہو، اسے ایک نسخہ بھجوا دیا جائے۔چناچہ اس کا نام نوٹ کیا ہوا ہے اور دفتر میں رکھا ہوا ہے۔پس زبان کے لحاظ سے کن کن ممالک میں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے، ایک وقت میں انگریزی کے بعد فرانسیسی دوسرے درجہ پر آتی تھی۔ممکن ہے اب اس کی اہمیت کچھ کم ہو گئی ہو لیکن اب بھی مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے۔سپین میں ہمارا مبلغ تو ہے لیکن کرایہ کے مکان میں رہتا ہے۔وہاں بھی مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد کی ضرورت ہے اور سپین کی اہمیت یہ ہے کہ شمالی امریکہ اور کینیڈا میں تو انگریزی بولنے والے لوگ غالب آئے لیکن جنوبی امریکہ کے اکثر ملکوں میں سپینش زبان بولنے والے غالب آئے۔تو ان ملکوں میں اگر ہم نے اشاعت اسلام کے کام کو مضبوطی سے چلانا ہے تو ہمیں ان کا جو مرکز ہے یا کبھی رہا ہے وہاں ہمیں اپنے مرکز کو مضبوط کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں تین ایسے ممالک ہیں جن کی یہ اہمیت تو نہیں ہے یعنی اٹلی اور فرانس اور سپین کی طرح تو نہیں ہے لیکن ان کی ایک اور وجہ سے بڑی اہمیت ہے۔وہ ہیں ناروے، سویڈن اور ڈنمارک۔اس علاقے میں عیسائیت بہت دیر بعد پہنچی ہے۔تاہم جب اس علاقے میں عیسائیت پہنچی تو لوگوں نے عیسائیت کو قبول کر لیا اور بڑی جلدی قبول کر لیا۔ہم امید رکھتے ہیں اور ہم دعائیں کرتے ہیں کہ اگر ہماری طرف سے صحیح طور پر اور صحیح طریقے پر اور وسیع پیمانے پر اسلام کو پیش کیا گیا تو یہاں کے عوام اسلام کو بھی اسی طرح جلدی قبول کر لیں گے جس طرح انہوں نے ایک وقت میں عیسائیت کو قبول کر لیا تھا۔ڈنمارک میں ہماری ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جسے دیکھنے کے لئے سیاح آتے رہتے ہیں اور مشن ہاؤس بھی ہے جس میں مبلغ کی رہائش اور دفتر ہے ایک بہت بڑا ہال ہے جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن ناروے اور سویڈن میں نہ ہماری کوئی مسجد ہے اور نہ مشن ہاؤس ہے۔کرایہ کے مکانوں میں یا بعض دوست اپنے مکانوں میں رہ رہے ہیں۔میں نے ان کو ہدایت کی تھی کہ اپنی زمین خرید و اور مکان بنواؤ۔انشاء اللہ جلد ہی اس کا انتظام ہو جائے گا۔غرض ان دو ملکوں میں بھی مشن ہاؤس کھلنے چاہئیں۔