خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 662
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب میں میرے ذہن میں اس کا جو ڈھانچہ بنا ہے اس کی بہت سی تفاصیل زیر غور ہیں اور وہ تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے،انشاء اللہ مجلس مشاورت پر پیش ہو جائیں گی۔اوّل:۔اشاعت اسلام اور اصلاح وارشاد اور تعلیم وتربیت کے کام کو تیز سے تیز تر کرنے کے لئے ہماری کوشش اس منصوبہ کی شق نمبرا ہوگی۔چناچہ مغربی افریقہ میں اشاعت اسلام اور اصلاح وارشاد اور تعلیم و تربیت کے کام کو تیز سے تیز تر کرنے کے لئے تین مراکز کا انتخاب کیا جائے گا اور وہ تین مراکز افریقہ کے سارے ممالک پر مشتمل ہوں گے۔یعنی مغربی افریقہ کے سارے ممالک کا نقشہ سامنے رکھ کر ان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیں گے اور ہر حصہ کا ایک مرکز ہوگا اور اس مرکز سے اس علاقے میں اسلام کی تبلیغ کی جائے گی۔اس وقت تک مغربی افریقہ میں ہمارے با قاعدہ مشن تو صرف چھ ممالک میں ہیں۔حالانکہ مغربی افریقہ کے ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس طرح مشرقی افریقہ میں بھی تین مراکز بنا کر اسلام کی تبلیغ واشاعت کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میں جب بھی مرکز کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے میری مراد یہ ہوتی ہے جہاں ایک جامع مسجد اور مکمل مشن ہاؤس ہو۔کیونکہ اس کے بغیر تو اشاعت اسلام کا کام نہیں ہوسکتا۔گو اس وقت مغربی افریقہ میں ہمارے مراکز قائم ہیں لیکن میں ایسے مراکز کی بات کر رہا ہوں جو کسی ایک ملک کے لئے مرکز نہیں بنیں گے بلکہ بہت سے ممالک کے لئے ایک ایک مرکز ہوگا۔ہوسکتا ہے موجودہ مرکز کو اس غرض کے لئے منتخب کریں یا کسی نئی جگہ کو منتخب کر کے وہاں مرکز بنا ئیں۔یورپ میں اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ اٹلی میں ہمارا کوئی مشن نہیں ہے۔فرانس میں ہمارا کوئی مشن نہیں ہے۔حالانکہ ان دونوں ملکوں کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اٹلی میں اس لئے کہ یہ کیتھولسزم (Catholicism) کا مرکز ہے۔یعنی عیسائیت ایک وقت میں اپنے عروج پر تھی تو اس وقت یہی ان کا ایک فرقہ تھا۔پھر آہستہ آہستہ دوسرے فرقے بھی بن گئے لیکن اس وقت بھی عیسائیت کے بہت بڑے حصے کا مرکز اٹلی ہے۔ان کا پوپ یعنی قائد اعلیٰ اٹلی میں رہتا ہے لیکن اٹلی میں ہمارا کوئی تبلیغی مرکز نہیں۔پھر فرانس میں بھی ہمارا کوئی مرکز نہیں۔حالانکہ فرانسیسی زبان بھی بہت مشہور زبان ہے۔یہ اس وقت بھی جبکہ برٹش ایمپائر اپنے عروج پر تھی انگریزی کے بعد دوسرے نمبر پر آتی تھی۔یہ بھی دنیا کے اکثر حصوں میں بولی جاتی تھی۔مثلاً مراکش میں بولی جاتی۔