خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 660 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 660

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب ایسے تھے جن کے باشندے آپ کا نام تک نہ جانتے تھے اور پھر خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا ہم نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ اتنے بھرے ہوئے ہندوستان میں سے جو ہزاروں۔لاکھوں میل پر پھیلا ہوا تھا۔شہر شہر میں یہ مخالفانہ آواز گونجی کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔تمہارا یہ نعرہ مہدی معہود کی صداقت کی دلیل تھا۔اس کا اور اس کے گاؤں کا تو نام بھی لوگ نہیں جانتے تھے۔خدا نے کہا تھا کہ میں تیرے نام کو دنیا میں عزت کے ساتھ پھیلاؤں گا۔کچھ اپنوں نے پھیلا اور کچھ تم ( مخالفوں ) نے جا کر پھیلا دیا۔مخالفتوں کا ایک اثر تو یہ ہوا کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے کے مواقع میسر آئے اور اس طرح پر جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اتنا جذب کیا کہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ ایک وقت میں اڑھائی سوروپے کی لاگت پر ایک کنواں لگانے کے لئے دو دو آنے چندہ کی اپیل کی گئی اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے کے عام چندوں کے علاوہ صرف نصرت جہاں ریزروفنڈ میں اکیاون لاکھ روپے جمع ہو گئے ہیں اور اس طرح ہماری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ۵۱ سال کے مقابلے میں ۵۱ لاکھ روپے جمع ہو جائیں۔گویا ہر سال کا ایک لاکھ روپیہ۔پس مہدی معہود علیہ السلام کا جو کام ہے اور مہدی معہود کو جو بشارتیں ملی ہیں وہ ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہیں اور جس زمانہ میں ہم داخل ہورہے ہیں اور جس کے بعد غلبہ اسلام کی صدی میں سولہ سال رہ گئے ہیں۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو پہلی بیعت ہوئی تھی اور آج سے سولہ سال بعد ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء میں سو سال گزر جائیں گئے۔یہ جو سولہ سال کا عرصہ ہے اس میں جیسا کہ میں نے بتایا دو اغراض کے پیش نظر۔ایک خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے ہمیں پوری ایک صدی تک نوازتا چلا گیا، ہم نے صد سالہ جشن منانا ہے۔دوسرے ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ سر جھکاتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعلان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود تجھ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ہم نے تھوڑے ہوتے ہوئے پورے ایک سو سال تک تیری راہ میں قربانیاں دیں تا کہ تیرا دین غالب آئے۔اس کا ایک مرحلہ طے ہو گیا ہے۔اب دوسرے مرحلہ کے لئے ہمیں قربانیاں دینے کی توفیق بخش۔اسلام کی یہ جو آخری جنگ ہے اور ساری دنیا پر اسلام نے قیامت تک کے لئے غالب آنا