خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 55
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۵ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں فضائل القرآن (۶)۔انوار العلوم جلد نمبر ۱۴ صفحہ ۴۰۸) ۱۹۳۸ء میں آپ نے فرمایا۔صرف یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہی یہ بات تھی بلکہ آپ آگے بھی یہ چیز دے گئے ہیں اور آپ کے طفیل مجھے بھی ایسے قرآن کریم کے معارف عطا کئے گئے ہیں کہ کوئی شخص خواہ وہ کسی علم کا جاننے والا اور کسی مذہب کا پیرو ہو۔قرآن کریم پر جو چاہے اعتراض کرے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قرآن کریم سے ہی اس کا جواب دوں گا۔میں نے بار ہا دنیا کو چیلنج کیا ہے کہ معارف قرآن میرے مقابلہ میں لکھو حالانکہ میں کوئی مامور نہیں ہوں مگر کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔اور اگر کسی نے اُسے منظور کرنے کا اعلان بھی کیا تو بے معنی شرائط سے مشروط کر کے ٹال دیا۔مثلاً یہ کہ بند کمرہ ہو کوئی کتاب پاس نہ ہو مگر اتنا نہیں سوچتے کہ اگر خیال ہے میں پہلی کتب اور تفاسیر سے معارف نقل کولوں گا۔تو وہی کتب تمہارے پاس بھی ہوں گی تم بھی ایسا ہی کر سکتے ہو۔پھر اگر میں دوسری کتب سے نقل کروں گا۔تو خود اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی ثابت کر دوں گا۔کیونکہ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ نئے معارف بیان کروں گا لیکن مقابلہ کے وقت جب پرانی تفاسیر سے نقل کروں گا۔تو خود ہی میرے لیے شرمندگی اور ندامت کا موجب ہو گا مگر میں جانتا ہوں یہ سب بہانے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کسی کو سامنے آنے کی جرات ہی نہیں تحقیق حق کا صحیح طریق۔انوار العلوم جلد نمبر ۱۳ صفحہ ۴۱۱،۴۱۰) پھر مارچ ۱۹۴۴ء میں آپ نے دنیا کو للکارا اور چیلنج دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ مجھے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا ہے اور میرے اندر اس نے ایسا ملکہ پیدا کر دیا ہے کہ جس طرح کسی کو خزانہ کی کنجی مل جاتی ہے۔اسی طرح مجھے قرآن کریم کے علوم کی کنجی مل چکی ہے دنیا کا کوئی عالم نہیں جو میرے سامنے آئے اور میں قرآن کریم کی افضلیت اس پر ظاہر نہ کر سکوں یہ لاہور شہر ہے۔یہاں یونیورسٹی موجود ہے کئی کالج یہاں کھلے ہوئے ہیں بڑے بڑے علوم کے ماہر اس جگہ پائے جاتے ہیں۔میں ان سب سے کہتا ہوں دنیا کے کسی علم کا ماہر میرے سامنے آ جائے۔دنیا کا کوئی