خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 647 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 647

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب مہدی علیہ السلام روحانی قوتوں اور ان کی نشو و نما میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس اور ظل کامل ہیں اور اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی کہ جماعت صد سالہ جشن منائے۔یعنی وہ لوگ جن کو سوواں سال دیکھنا نصیب ہو وہ صد سالہ جشن منائیں اور میں اپنی بھی اسی خواہش کا اظہار کرتا ہوں کہ صد سالہ جشن منایا جائے۔اس لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے اور میں نے بڑی دعاؤں کے بعد اور بڑے غور کے بعد تاریخ احمدیت سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اگلے چند سال جو صدی پورا ہونے سے قبل باقی رہ گئے ہیں وہ ہمارے لئے بڑی ہی اہمیت کے مالک ہیں۔اس عرصہ میں ہماری طرف سے اس قدر کوشش اور اللہ کے حضور اس قدر دعا ئیں ہو جانی چاہئیں کہ اس کی رحمتیں ہماری تدابیر کو کا میاب کرنے والی بن جائیں اور پھر جب ہم یہ صدی ختم کریں اور صد سالہ جشن منا ئیں تو اس وقت دنیا کے حالات ایسے ہوں جیسا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایک صدی گزرنے کے بعد ہونے چاہئیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ یہ جماعت اس کے حضور قربانیاں پیش کر کے غلبہ اسلام کے ایسے سامان پیدا کر دے اسی کے فضل اور اسی کی دی ہوئی عقل اور فہم سے اور اسی کے سمجھائے ہوئے منصوبوں کے نتیجہ میں دنیا کے وہ لوگ بھی جنہیں اس وقت اسلام سے دلچسپی نہیں ہے وہ بھی یہ سمجھنے لگیں کہ اب اسلام کے آخری اور کامل غلبہ میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا۔یہ سپریم ایفرٹ (Supreme Effort) یعنی انتہائی کوشش جو آج کا دن اور آج کا سال ہم سے مطالبہ کرتا ہے اس آخری کوشش کے لئے ہمیں کچھ سوچنا ہے اور پھر سب نے مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔یہ خیال کر کے کہ سوسال ( کے بعد جماعت احمد یہ کے قیام پر ایک سوسال ) پورے ہو جائیں گئے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت پر اس معنی میں کہ آپ نے جو