خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 623 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 623

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۳ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار میں لائبریری کی یہ عمارت اس خیال کے مطابق تیار ہوئی کہ ہمارے پاس مناسب اور مناسب وسعت والی لائبریری موجود نہیں اس لئے وہ بنائی جائے اس کو شاید ڈیڑھ دو سال لگے ہوں گے تو وہ بھی دونوں لحاظ سے چھوٹی ہو گئی۔جو کتا بیں موجود ہیں اس کے لحاظ سے بھی وہ ایسی نہیں کہ بڑی وسعت اس میں ہو سکے اور جو ہماری ضرورت ہے اس کے لحاظ سے تو وہ بہت چھوٹی ہے۔پھر وہیں میں نے اعلان کیا تھا کہ یہ عمارت تو ایک حصہ بن جائے قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں تراجم کی جلدیں ہیں یا مختلف تفسیریں ہیں یا قرآن کریم کے مضامین یعنی خاص قرآن پر جو ہیں ویسے تو ساری دنیا کے علوم پر قرآن کریم نے احاطہ کیا ہوا ہے۔لیکن وہ علیحدہ مضمونوں میں آجاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر قرآن عظیم کے متعلق ایک انسان جو کوشش قلیل کرتا ہے وہ یہاں آ جائے اور باقی علوم کے متعلق کتا ہیں ( جب آپ نے ساری دنیا کا منہ بند کرنا ہے تو ساری دنیا کے علوم کے متعلق پایہ کے مانے ہوئے مصنفین کی کتابیں موجود ہونی چاہئیں ) اس لائبریری کے عقب میں بعض اور مقاصد کے مد نظر کچھ زمین چھوڑی گئی تھی واللہ اعلم اب بھی وہ لائبریری کو ملتی ہے یا کسی اور کام آتی ہے بہر حال مجھے خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے وہاں لائبریری بن جائے۔پس وہ ایک اچھی عمارت جس پر چارلاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا ہے وہ فضل عمر فاؤ نڈیشن نے جماعت کو دے دی۔اس طرح بعض دوسرے کاموں پر ان کا خرچ ہوا اور اب کچھ عرصہ سے روپیہ پڑا ہوا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں خرچ کریں۔جماعت نے تو وہ روپیہ قربانی کر کے دیا ہے اور رکھ چھوڑنے کے لئے نہیں دیا۔بلکہ اس لئے دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین اور اس کی مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچے۔دو چار تجاویز زیر غور تھیں لیکن غور کے بعد انہیں رڈ کرنا پڑا اور دو ایک تجاویز اب زیر غور ہیں۔امید ہے انشاء اللہ یہ روپیہ پڑا نہیں رہے گا بلکہ اسے برکت کے دھاروں میں چالو کر دیا جائے گا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام علمی تصانیف کے سالانہ انعامی مقابلہ کے لئے ۱۹۷۲ء میں پانچ مقالے موصول ہوئے۔کچھ موصول ہوئے اور کچھ کے او پر فیصلے ہو گئے اور ان کو انعام مل گیا۔پہلا انعام ایک ہزار روپے کا ہے جو ہر مقالے کو علیحدہ علیحدہ عنوانوں کے ماتحت ملتا ہے لیکن بہت کم ہمارے نوجوانوں نے اس طرف توجہ کی اور بہت کم انعام اُنہوں نے حاصل کیا۔انعام تو کوئی غرض نہیں۔یہ تو ہم نے ایک راہ نکالی تھی کہ ہمارا تعلیم یافتہ نو جوان وہ دین کا سپاہی