خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 621
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۱ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار لیکن جس طرح جنگ شروع ہوتی ہے تو اُس کا ابتدائی دور ایک اور مشکل کا ہوتا ہے۔جب وہی جنگ اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو اس کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔گذشتہ عالمگیر جنگ میں جب اتحادیوں نے جوابی حملہ کیا تو انہوں نے یورپ پر کچھ فوجیں اُتاری تھیں۔وہ چیز ہی کچھ اور تھی جس وقت اُنہوں نے جنگ جیتنے کے لئے حملہ کیا اپنے آپ کو یورپ میں مضبوط کر کے یہ فیصلہ کیا کہ اب آخری ہلہ بول کر یہ جنگ جیت لینی چاہئے۔اُس وقت ان کی حالت ہی کچھ اور تھی آپ اُس دور میں داخل ہو چکے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ شیطان کو جو ڈھیل دی گئی تھی ) کہ جب خدا نے شیطان سے کہا انسانی زندگی میں تجھے قیامت تک ڈھیل دی جاتی ہے ) وہ آخری وقت کہ جب اُس کی ڈھیل کا زمانہ ختم ہو رہا، اُس آخری زمانہ میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔شیطان نے بھی سوچا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین پر ایک بھر پور وار کرے اور اللہ تعالیٰ نے یہ منصوبہ بنایا کہ شیطان کو اور شیطانی لشکروں اور شیطانی طاقتوں کو اور ان ظلمات اور اندھیروں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے اور اُس کام کے لئے آپ کو چنا اور آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔پس اس دور میں بڑی ذمہ داریاں ہیں۔اس چیز کو سمجھیں اللہ تعالیٰ آپ سے جو چاہتا ہے اور جس چیز کا آپ سے مطالبہ کرتا ہے جن قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جس قدر پیار کا ہمیں وعدہ دیا ہے اور جس قدر کا میابیاں ہمارے لئے مقدر کیں اور ہمیں بتایا کہ یہ تمھارا انتظار کر رہی ہیں۔اگر ہم ان باتوں کو سمجھیں تو دنیا کی ہر چیز کو بھول جائیں اور صرف اس ذمہ داری کو ہم اپنے سامنے رکھیں۔بہر حال علمی میدان میں جو کوششیں ہیں ان کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔رسائل ہیں۔انصار اللہ ، الفرقان ، خالد تنفيذ الاذھان ، مصباح اور اس کے علاوہ کچھ پرانی کتب ہیں۔جو اہم اور ضروری ہیں ان کی خریداری کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے اور کچھ کتابیں ہمارے سامنے آئیں ہیں ایک پرانی کتاب تبلیغ ہدایت مصنفہ محترم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اسی طرح 66 ان کی تصنیف الحجّةُ البالغه ‘اور پھر جناب مودودی صاحب کے رسالہ ختم نبوت پر علمی تبصرہ قاضی محمد نذیر صاحب کا اور ٹروتھ پریویلز (Truth Prevails قاضی محمد نذیر صاحب کی اور کتاب ” بنتِ رسول کا حق وراثت پر تبصرہ اور مسئلہ فدک کا حل“۔پھر تحریک پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کا کردار مولوی دوست محمد صاحب کی بائیل کی الہامی حیثیت