خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 530
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۰ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔افتتاحی خطاب دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے لگے۔اسی طرح وہ لوگ بھی جو ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہمارے دل میں تو نے ان کے لئے جو عزت قائم کی ہے اس کا بدلہ ہمیں یہ عطا فرما کہ ان کے دلوں میں بھی ہمارے لئے عزت و احترام کا مقام پیدا ہو جائے۔ہمارے دل میں جب غیر کی عزت پیدا ہوئی ہے تو ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور ہو گئے ہیں۔ہم نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ہم نے کہا اے خدا! اس فساد کی دُنیا میں اس اندھیرے اور ظلمات کی دُنیا میں تو نے ہمارے سینوں میں نو ر کا ایک چراغ جلا دیا ہے ہم تیرے ممنون ہیں۔ہم تجھ پر اپنے جسم کا ذرہ ذرہ قربان کرتے ہیں۔ہماری رُوح پکھل کر تیرے آستانہ پر بہتی ہے ان اغیار کے دل میں بھی یہ جذ بہ پیدا ہو گا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ جلوہ رُونما ہو گا کہ وہ سمجھیں گے ہم جن کی مخالفت کرتے تھے وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں جن کو ہم نے حقارت کی نگاہ سے دیکھا انہوں نے پیار سے ہمارے دلوں کو جیت لیا۔جن کے خلاف ہم نے قتل کے منصوبے اور دکھ اور ایذا پہنچانے کے منصوبے بنائے تھے انہوں نے ہماری زندگی کی راحتوں کا سامان دیا۔پس دوستوں کو یا درکھنا چاہیے کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہاتھ میں پکڑ کر دنیا میں آگے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے پر خدا تعالیٰ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم کہتا ہے محمد کی آواز پر لبیک کہو۔اس لئے کہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ وہ تمہیں زندہ کرے اور نئی زندگی عطا کرے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زندگی بخش جھنڈا اور زندگی بخش عکم ہمارے ہاتھ میں ہے۔مخالف ہمیں مارنے کی فکر میں ہیں۔اور ہم ان کو زندہ کرنے کے غم میں گھلے جاتے ہیں اور ہم اپنے رب سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ہم انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔پس جس اجتماع کی بنیاد اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔اس اجتماع کے مقاصد اپنی نظر کے سامنے رکھیں اور یہ نہ بھولیں کہ انسان ایک بے کس ہستی ہے جس میں کوئی طاقت اور قوت نہیں ہے جب اصل قوت کے سرچشمہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے اس کا تعلق قائم نہ ہو اس وقت تک انسان لا شئی محض ہے۔اس لئے اپنی عاجزانہ کیفیت اور عاجزانہ مقام کو نہ بھولیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں سے کبھی غافل نہ ہوں۔وہ بڑی قدرتوں والا وہ بڑی حکمتوں والا اور بڑی