خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 512

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ہمیں بھی افریقہ بھیج دیں۔اللہ تعالیٰ ان کے علم میں زیادتی بخشے۔وہ حکومتیں اپنے ملک کے سکولوں میں کام کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو اجازت نہیں دیتیں۔یہاں پاکستان میں تو اجازت مل جاتی ہے۔ان کو سمجھ نہیں مگر وہاں کی حکومتیں اجازت نہیں دیتیں۔اس واسطے یہ خیال دل میں نہ لائیں۔اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت ڈالے اور علم میں بھی برکت ڈالے۔اب نصرت جہاں آگے بڑھوں کے منصوبے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے۔میں کچھ حقائق اور واقعات بتا دیتا ہوں تا کہ یہ بھی پتہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے فضلوں اور رحمتوں سے اپنی جماعت کو نواز رہا ہے۔ابھی سال نہیں ہوا۔چند مہینے ہوئے ہیں۔ہم نے شاید ۱۴ رمئی کو افریقہ چھوڑا تھا چھ مہینے کے اندر وہاں کام شروع ہو گیا ہے بریگیڈیر ڈاکٹر غلام احمد صاحب جو یہاں سے یکم نومبر کو گئے تھے ؟ انہوں نے کو کو فاغانا میں ہیلتھ سنٹر کھول کر کام شروع کر دیا ہے۔تو گویا نومبر کے شروع میں ہمارا ایک ہیلتھ سنٹر کام کرنے لگ گیا ہے اس ہیلتھ سنٹر کے لئے وہاں کے ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے جو احمدی نہیں ایک نہایت اچھی اور وسیع سیمنٹ والی عمارت ہمیں مفت دی ہے اور ڈاکٹر صاحب کی رہائش کے لئے مکان بھی دیا ہے۔اور اس ہیلتھ سنٹر کے ارد گر د نصف میل کا علاقہ ہمارے مشن کو دے دیا ہے کہ آگے تم۔ترقی کرنی ہے کیونکہ تم یہاں آئے تو تم ترقی بھی تو کرو گے تم یہاں سکول بھی کھولو گے اس لئے میں تمہیں یہ زمین دے دیتا ہوں۔تم اس پر قبضہ کر لو۔غرض اللہ تعالیٰ اس طرح اپنا فضل کرتا ہے۔ان سارے ملکوں کے شمال میں مسلمان آبادیوں کی بڑی بھاری اکثریت ہے۔نارتھ نائیجیریا، نارتھ غانا وغیرہ نارتھ کے جو حصے ہیں وہ مسلم ایریاز کہلاتے ہیں لیکن جس طرح شروع میں یہاں بعض لوگوں نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ انگریزی پڑھنے سے انسان کا فر ہو جاتا ہے۔وہاں بھی مولویوں نے عورتوں میں تعلیم رائج نہیں ہونے دی۔مرد تو کچھ باغی بن گئے اور ان فتوؤں کی کچھ پرواہ نہیں کی لیکن عورتیں تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئیں اور مجھے یہ دیکھ کر بڑا صدمہ ہوتا تھا۔ایک تو اس وجہ سے کہ عورت تعلیم میں پیچھے رہ گئی اور دوسرے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہوں نے دُنیا کو دیکھا اور بدلے ہوئے حالات کو دیکھا تو انہیں بھی تعلیم کا شوق پیدا ہوا لیکن چونکہ وہاں مسلمانوں کا