خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 507

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۰۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب لیکن جب گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ فوری طور پر یہاں خرچ کرو تو ہیں مطمئن ہو گیا۔پہلے میں دس ہزار پاؤنڈ کے لئے متفکر ہو جایا کرتا تھا۔اب میں مطمئن ہو گیا کہ جب خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ خرچ کرو تو مال ہمارا تو نہیں اسی کا ہے وہ دے گا اور ہم خرچ کریں گے مجھے ثواب پہنچانا چاہتا ہے پھر اس سکیم کی شکل بدل گئی اور "Leap forward" کی شکل میں ایک جامع منصوبہ سامنے آ گیا ( ویسے تو اس کو پہلوں نے بھی استعمال کیا ہے ) لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نقل نہیں کی تھی اس وقت ایک ضرورت کے مطابق یہ فقرہ ذہن میں آ گیا تھا کہ ) آگے بڑھو کی سکیم اس کا نام رکھ دیا جائے لیکن اب اس کا پورا نام "نصرت جہاں آگے بڑھو کی سکیم ہے یہ سکیم بڑی پھیل گئی ہے اس کے اندر وسعت پیدا ہوگئی ہے۔چنانچہ جب میں افریقہ کا سفر ختم کر کے انگلستان میں آیا تو وہاں میں نے نصرت جہاں ریز روفنڈ کا اعلان کیا اور جیسا کہ کل میں نے مختصر بتایا تھا میں نے انگلستان کی جماعت سے کہا کہ میرے جانے سے پہلے دس ہزار پاؤنڈ نقد جمع ہو جائے اور دوست وعدے کرتے رہیں۔پہلے میرے دماغ میں شاید ۲۵ ہزار پاؤنڈ تھا پھر شاید ۳۰ ہزار پاؤنڈ اور اس طرح بڑھتے بڑھتے آخر میں میں نے ان سے کہا تھا کہ تمہارے ذمہ میں نے اب پچاس ہزار پاؤنڈ کی رقم لگا دی ہے اور یہاں سے میں نے ان کو لکھا تھا کہ میں یہ چاہتا ہوں ( امام رفیق واپس آ رہے ہیں ان کی جگہ ایک دوسرے دوست جا رہے ہیں ) کہ میری یہ خواہش ہے کہ آپ کے آنے سے پہلے چند مہینوں میں ۲۱ ہزار پاؤنڈ ( جو تین سالہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی رقم ہے ) اتنی جمع ہو جائے یہ بھی ایک غیر کے لئے بہر حال نشان ہے۔ابھی وہ آئے نہیں۔اٹھارہ ہزار پاؤنڈ جمع ہو چکا ہے اور اڑتالیس ہزار پاؤنڈ کے ان کے وعدے ہو چکے ہیں۔میں نے ان کو جو ٹا رگٹ دیا تھا وہ انہوں نے پورا کر دیا ہے۔خیر وہ تو پورا کیا لیکن میں نے پہلے دن ان کو کہہ دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ یہاں ان ملکوں میں خرچ کرو۔اس لئے مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے جو ساری دولتوں کا مالک ہے اس نے فرمایا ہے کہ خرچ کرو تو وہ خود ہی دے گا۔آپ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ دس روپے خرچ کرو تو کبھی آپ کے دماغ میں خیال آتا ہے کہ جا کر چوری کر کے لاؤ اور خرچ کرو۔بچہ آپ کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے اس میں تم سے خرچ کرواؤں گا