خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 506
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب احمدیت کے طفیل اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اسے یہ نشان دکھایا۔وہ تو منصورہ بیگم کے ساتھ ہر وقت چھٹی رہتی تھی۔جتنے دن ہم وہاں رہے بچہ اس کی گود میں ہوتا تھا کہ اس سے پیار کرو۔دعا کرو اللہ تعالیٰ اسے زندگی بخشے کیونکہ یہ اس کی قدرت کا ایک نشان ہے۔غرض انہوں نے مہدی معہود کے طفیل خدا تعالیٰ کی ان قدرتوں کے نظارے دیکھے اور وہ اس طرح مہدی معہود سے بھی پیار کرنے لگے اور جس منبع سے مہدی معہود نے برکت حاصل کی تھی اس منبع سے بھی ان کے دل میں عشق پیدا ہو گیا وہ اتنے جذباتی تھے کہ میری تو شرم سے گردن جھک جاتی تھی۔پیار سے دیکھتے تھے مگر کھڑے دیکھ رہے ہیں۔کوئی بات نہیں کہنے والی۔صرف چہرہ دیکھے جارہے ہیں۔پیچھے سے جو لائن میں کھڑا ہے وہ پیچھے سے ٹھونگے دے رہا ہے کہ آگے بڑھو مگر اگلے آدمی کو کوئی پرواہ نہیں۔پھر جو پچھلا آگے آجاتا تھا وہ بھی وہاں کھڑا ہے۔پھر اور پیچھے سے اسے دوسرے ٹھوکریں لگا رہے ہوتے تھے کہ چلو آگے۔وہ اس قسم کے جذبات کا اظہار کرتے تھے۔میں شرم سے آنکھیں نیچی کر لیا کرتا تھا۔میں تو اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں۔وہاں جا کر جو کچھ دیکھا اور جو کچھ سنا اور جو مشاہدہ کیا اس کے نتیجہ میں بہت کچھ سوچنا پڑا۔ابھی میں نائیجیریا میں تھا تو میری طبیعت پر یہ اثر ہوا کہ ہم نے ان کی خدمت تو بڑی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن جتنی خدمت کرنی چاہئے تھی اتنی نہیں کی اور جتنی ہم کر سکتے ہیں اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں زیادہ تو فیق دی ہے اتنی ہم نہیں کر رہے اس لئے کچھ کرنا چاہیے۔چنانچہ میں نے اپنے دماغ سے ایک سکیم بنا کر دی کہ سات سال کے عرصہ میں سولہ نئے سکول کھولو۔علاوہ ازیں میں نے کہا ہم ایک دو میڈیکل سنٹر بھی کھول دیں گے لیکن میں دعاؤں میں لگا رہا اور غور کرتا رہا۔پانچواں ملک جس میں میں گیا وہ گیمبیا تھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے خود میرے لئے سکیم کو تیار کیا۔یہ اس کی شان ہے وہ تو وقت سے بھی بالا ہے اس کے لئے سیکنڈ کہنا بھی غلط ہے بس آن واحد میں ساری تفصیل دماغ میں آگئی۔مجھے یہ کہا گیا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ فوری طور پر یہاں Invest کرو ایک تو وہ سات یا پانچ سالہ منصو بہ ختم ہو گیا۔دوسرے میں اُن سے کہتا تھا سکول کھولیں گے ( یعنی میں اپنی سکیم بنا رہا تھا۔) میڈیکل سنٹر کھولیں گے تو یہ کہنے کے بعد میں فکر مند ہو جاتا تھا کہ وعدہ کر لیا ہے۔مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس کے لئے سامان بھی میسر آئے گا یا نہیں ؟