خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 38

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٨ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب ی فقرہ کہ دینا کہ ہم تو حید پر قائم ہیں یہ نہ تو کوئی فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اس کے کوئی معنے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تو حید اس چیز کا نام ہے کہ سورج چاند آسمان کے کسی ستارے، آگ، پانی یا زمین کی کسی اور چیز کو اپنا معبود نہ ٹھہراؤ اور جن چیزوں سے تم منفعت حاصل کرتے ہو ان کے متعلق یہ نہ سمجھو کہ ان میں نفع پہنچانے کی ذاتی طور پر کوئی طاقت ہے کیونکہ مخلوقات میں سے کوئی چیز اس وقت تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ اسے آسمان سے اذن عام کے ساتھ ساتھ اذن خاص بھی نہ دیا جائے۔پھر تم دنیا کے اسباب کو ایسی عزت نہ دو اور ان پر ایسا بھروسہ نہ کرو کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے شریک ہیں۔تم اپنی کوشش اور ہمت کو کچھ نہ سمجھو کہ یہ بھی تو حید باری کے خلاف ہے اور شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے تم اپنے اعمال، قربانیوں اور اپنی جد و جہد پر تکیہ نہ کرو اور یہ نہ سمجھو کہ خدا کی راہ میں تمہارے اعمال ، تمہاری قربانیاں یا کوئی اور جد و جہد اپنی ذات میں کوئی خوبی رکھتی ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف الہی چیزوں کے ذریعہ تم پر نجات کی راہ کھل سکتی ہے نہیں ہرگز نہیں۔تم سب کچھ کر کے بھی یہ سمجھو کہ تم نے کچھ نہیں کیا تم نہ اپنے علم پر غرور کرو اور نہ اپنے اعمال پر ناز تم اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھو اور اپنے آپ کو فی الحقیقت کمزور اور ناتواں جانو۔خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر دم اور ہر وقت اپنی روح گداز رکھو۔اپنی عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اس کے فیوض کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرو اور یقین کرو کہ تمہارا خدا وہ زندہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد و یگانہ ہے۔کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی نہیں اور نہ کسی وجود کی صفات اس کی صفات کی مانند اور مثل ہیں۔یا د رکھو کہ انسان کا علم بھی ایک معلم کا محتاج ہے اس لئے وہ محدود ہے مگر اس علام الغیوب کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اس لئے وہ غیر محدود ہے۔انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور معین طور پر میں سے ہیں ہزار صوتی لہروں تک محدود ہے ہیں سے نیچے صوتی لہر ہو تو انسان کوئی بات نہیں سن سکتا اور میں ہزار سے اوپر صوتی لہر ہو تو انسان کے کان اس طرف بالکل توجہ ہی نہیں دیتے مگر خدائے سمیع کی شنوائی اس کی ذاتی طاقت کی وجہ سے ہے اس لئے وہ غیر محدود ہے۔پھر انسان کی بینائی بیرونی روشنی کی محتاج ہے اور معین ضیائی لہروں کے اندر محدود ہے مگر خدائے بصیر کی بینائی اس کی ذاتی روشنی سے ہے اس کی کوئی درجہ بندی نہیں