خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 37
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب فاؤنڈیشن کو علیحدہ طور پر رجسٹر کروالیا جائے اور اس کی مجلس عاملہ کے طور پر اس وقت بعض نام میرے ذہن میں آئے ہیں۔مثلاً مخدومی و محترمی چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، ایک نمائندہ صدر انجمن احمدیہ کا، ایک نمائندہ تحریک جدید انجمن احمدیہ کا چوہدری محمد انور صاحب کا اہلوں ( جو اس وقت ایسٹ پاکستان میں ہیں گو وہ ادھر کے ہی رہنے والے ہیں لیکن انہوں نے اپنی ساری عمر قریباً وہیں گزار دی ہے وہ ) ایسٹ پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور ہمارے نز دیک وہ اس کے اہل بھی ہیں وکلاء میں سے میر محمد بخش صاحب گوجرانوالہ امراء اور تاجر پیشہ اصحاب میں سے شیخ محمد حنیف صاحب کو ئٹہ اور مستعدی سے کام کرنے کے لحاظ سے کرنل عطاء اللہ صاحب جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا دماغ دیا ہے اور انہیں ایسے امور کے متعلق بڑی معلومات حاصل ہیں لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ فی الحال یہ نام زیر غور ہیں ان میں سے بعض تو یقینا اس میں آجائیں گے اور ممکن ہے بعض نام تبدیل بھی کرنے پڑیں۔بہر حال یہ مختصر سا ڈھانچہ ہے جو اس وقت تک فضل عمر فاؤنڈیشن کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ہے اور میں چاہتا تھا کہ اسے دوستوں کے سامنے بیان کر دیا جائے تا اس امر کے متعلق ان کی دلچسپی بڑھے وہاں ان کی دعائیں بھی اس کے شامل حال ہو جا ئیں۔اب میں نفس مضمون کی طرف آتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا تھا۔خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس ( تذکرہ نیا ایڈیشن صفحہ ۱۹۷) یہ حکم ہمیں بھی ہے اور حضور کی روحانی اولا دکو بھی۔یعنی اے فارس کے بیٹو تم تو حید کو مضبوطی سے تھامے رکھو تو حید کو مضبوطی سے پکڑو اور اسے سنبھالے رکھو۔گو اس حکم کے پہلے مخاطب میں اور میرے بہن بھائی ہیں لیکن جیسا کہ آپ میں سے ہر ایک شخص اپنے دل میں یہ یقین رکھتا ہے۔آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اولاد ہیں اس لئے اس الہام میں خدا تعالیٰ ہم سب کو یہ کہہ رہا ہے۔خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس کہ اے فارس کے بچو تم تو حید پر قائم رہو اور اس مقام سے اِدھر اُدھر نہ جانا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ توحید کسے کہتے ہیں؟ خالی زبان سے اللہ تعالیٰ کو ایک کہہ