خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 466

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۶ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار بچے پھر ہندو بنیں یا ہندؤں کا اثر قبول کریں۔اس واسطے تم ان کو پڑھاؤ۔وہ ہم سے بڑے آدمی مانگ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان بچوں کو قرآن کریم پڑھاؤ اور اسلام کی تعلیم دو۔فضل عمر فاؤنڈیشن فضل عمر فاؤنڈیشن کا افتتاح ۱۹۶۵ء کے جلسے میں کیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔ایک بات اس وقت تو میں نے ظاہر نہیں کی اب بتا دیتا ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلافت کے مقام پر کھڑے کئے گئے تو سارے مخالف اندرونوں نے کہا۔ایک بچے کو بٹھا دیا ہے۔اس نے کیا کام سنبھالنا ہے۔پھر وہی بچہ جب الہی تقدیر کے مطابق ۱۹۶۵ء میں ہم سے جدا ہوا تو کہنے لگے بڑا ذہین، بڑا صاحب فراست، بڑا عالم ، بڑامد براور بڑ انتظم جماعت سے علیحد ہو گیا ، اب دیکھنا ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔۱۹۱۴ء میں وہ نا قابل اعتناء بچہ تھا اور ۱۹۶۵ء میں وہ ایک ایسا بت بن گیا تھا ( غیروں کی نگاہ میں ، ہماری نگاہ میں نہیں ) کہ وہ خیال کرتے تھے کہ اب وہ بت نہیں ہے تو جماعت ختم ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے عمل سے اور اپنی رحمتوں کے جلوے دکھا کر جماعت کو کہا کہ ۱۹۱۴ء کا بچہ بھی میری انگلیوں میں ہتھیار بن کر اٹھایا گیا تھا اور ۱۹۶۵ء میں بھی وہ میرا پیارا تھا جس کو میں نے اپنے پاس بلا لیا۔پھر میں نے ایک اور ذرہ ناچیز کو پکڑا، وہ بھی میری انگلیوں میں ہے۔۱۹۱۴ء میں بھی تم ایک کو نا اہل کہتے رہے تھے ۱۹۶۵ء میں بھی کہہ لو ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان لوگوں کو دکھانے کے لئے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ذہن میں یہ تجویز بیج کے طور پر آئی اور اعلان ہوا۔اب خدا تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھانا تھا کہ تم کہتے تھے جماعت بت پرستی کے اصول پر قائم ہے اور بڑا شور مچارہے تھے کہ گڑی بن گئی ، گڈی بن گئی۔آؤ میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ یہ جماعت ہماری محبت کی بنیاد پر قائم ہے۔اس وقت انگلستان کی جماعتوں نے جو وعدے کئے اور بعد میں جو وصولیاں ہوئیں وہ اکیس ہزار کی تھیں۔پھر میں نا اہل، میں نے تو اہلیت کا دعوی ہی کبھی نہیں کیا کبھی مجھے کچھ کہتے ہیں تو ہنسا کرتا ہوں کہ اگر میں نے کوئی دعوی کیا ہوتا پھر تم الزام لگاتے تو مجھے فکر اور تشویش ہوتی۔میں