خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 36
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب نہیں دے سکیں گے ان کی سہولت کے پیش نظر یہ تجویز کی گئی ہے کہ وہ اپنے وعدہ کو تین سال میں، تین قسطوں میں ادا کر سکتے ہیں۔اس طرح امید ہے کہ دوست اور خصوصاً وہ دوست جنہوں نے اب بھی اس فنڈ میں کافی بڑی رقمیں دی ہیں اور اس خیال کے ماتحت دی ہیں کہ انہیں جلد ادا کرنا ہے اپنے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وعدوں میں زیادتی کریں گے۔خدا کرے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی رقم پچاس لاکھ اور کروڑ کے درمیان تک پہنچ جائے۔،،۔اس فاؤنڈیشن کے متعلق اب تک جو سوچا گیا ہے ( گو میں ایک کمیٹی مقرر کر دوں گا جو غور کرے گی کہ اس کی آمد کو کس طرح استعمال کرنا ہے اور اس کے کیا قواعد وضع ہونے چاہئیں لیکن میں تفصیل میں اس وقت نہیں جانا چاہتا ) وہ یہ ہے کہ اس کی آمد سے ایک تو مبشرین تیار کئے جائیں گے یعنی بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مبلغین اور پاکستان میں کام کرنے والے مربیان اور معلمین کو زیادہ تعداد میں تیار کیا جائے گا اور اس فنڈ کی آمد سے ان پر خرچ کیا جائے گا۔کیونکہ ہماری ضرورتیں جیسا کہ میں نے کل اشارۃ کہا تھا بہت زیادہ ہیں اور وہ جلد تر پوری ہونی چاہئیں اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ مقاصد جن کے لئے ہم جدو جہد کر رہے ہیں۔ہماری زندگیوں میں ہی ہمیں حاصل ہو جائیں۔تو ہمیں مبشرین اور مربیان کی تعداد کو بہر حال بڑھانا پڑے گا۔سوفضل عمر فاؤنڈیشن کی آمد سے ایک تو مبشر اور مربی تیار کئے جائیں گے۔پھر ہمارے بعض بچوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے دماغ عطا کئے ہیں کہ ان کی پوری تربیت اور تعلیم کا انتظام ہو جائے تو بہت جلد دنیوی لحاظ سے چوٹی کے دماغوں میں شمار ہونے والے بن سکتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو حالات کی مجبوری کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم نہیں دلائی جاسکتی۔کالج میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ ہر سال داخل ہونے والوں میں سے ایک دو طالب علم ضرور ایسے ہوتے تھے کہ اگر ان کی ٹھیک تربیت اور صحیح تعلیم کا انتظام ہو جائے تو وہ چوٹی کے دماغوں میں شامل ہونے کی استعداد اور قابلیت رکھتے ہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کی آمد سے اس قسم کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا بھی انتظام کیا جائے گا۔اس طرح اور بھی بہت سی ضروریات ہیں جن کی تفصیل میں وہ کمیٹی جائے گی جو میں مقرر کروں گا اور پھر ہم باہم مشورہ اور غور کے بعد اس چیز کو مکمل کر لیں گے۔فی الحال میرا کوئی آخری فیصلہ نہیں لیکن خیال ہے کہ اس