خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 456
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۶ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار سال کے لئے ساڑھے چارمن کے لحاظ سے ساڑھے تیرہ من گندم چاہئے گویا روزانہ آدھ سیر نی کس ہوگی۔ہمارا ایک اور کلرک ہے وہ وہی تنخواہ لے رہا ہے۔اس پر اللہ نے بڑا فضل کیا ہے اور اس کو آٹھ بچے دیئے ہیں۔کھانے والے دس جی ہو گئے۔ان کو اس کے مقابلے میں ۴۵ من گندم چاہئے لیکن تنخواہ ہم ایک دیتے ہیں۔دراصل تنخواہ کا اصول قائم کر کے ایک دجل چلایا ہوا ہے۔دنیا نے ایسا گندہ اصول بنا دیا ہے۔لوگ کہتے ہیں یہودیوں نے بنایا ہے۔واللہ اعلم لیکن ہے بڑا نا معقول۔ہر شخص کی گھر میں جو اشد ضرورت ہے وہ اس کو بہر حال ملنی چاہیے۔ہم یہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارا ایک کارکن سوروپیہ تنخواہ لے رہا ہے۔اس کے اگر تین کھانے والے ہیں تو ساڑھے تیرہ من کا چوتھا حصہ یعنی پچیس فیصد ہم مفت گندم دے دیتے ہیں اور جس کے دس ہیں لیکن تنخواہ وہ اتنی ہی لے رہا ہے تو 45 من کا چوتھا حصہ اس کو مفت دے دیتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ قریباً اس کی جو ضرورت تھی اس کے برابر دوسرے کو مفت مل گیا۔جس کی ضرورت 45 من کا چوتھا حصہ ساڑھے گیارہ من بنا وہ پہلے کی ساری ضرورت ساڑھے تیرہ مین تھی۔اگر ہم مثلا دس یا نہیں پاتیں روپے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کردیں تو جس کے زیادہ بچے ہیں اس کی ضرورت پوری نہیں ہوگی۔میں تو جو باہر سے آنے والے دوست آتے ہیں ان کو کہہ رہا ہوں کہ کس مصیبت میں تم پھنسے ہوئے ہو۔نا معقول حرکتیں کرتے ہو۔یہ اعلان کرو کہ ہم بونس دیں گے۔یہ صحیح ہے کہ اب ایسا چکر تنخواہ کا چل گیا ہے کہ جب تک ہمارے ورکر (worker) کو ، کارکن کو اور کام کرنے والے کو فیکٹری میں ہو یا دفتر میں پوری طرح علم حاصل نہ ہو جائے تو بد دلی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔پس بونس کا نام دے دیں یا کوئی اور نام دے دیں۔ہمارے ہاں ایسے کارکن جن کی تنخواہ دوسوروپے سے کم ہے ان کو افراد خاندان کے لحاظ سے سال کی ضرورت کا چوتھا حصہ ہم مفت دے دیتے ہیں باقی ہم قرض دے دیتے ہیں۔یہ بھی یہاں سہولت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ غذائی طور پر ان کی ساری ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں ایسی مثال اور کہیں نہیں کہ ہمارے ملک کا جو کم سے کم معیار ہے یعنی روٹی گڑ سے یا شکر سے یا چٹنی سے یا اچار سے ہمارے کھانے کا یہ کم سے کم معیار ہے۔اتنا ہم ان کو دے دیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کا چالیس فیصد حصہ یقیناً ہمیشہ یہ کھاتا ہے اور ملک کی آبادی کا ساٹھ ستر فیصد حصہ ایسا ہے جو اکثر یہ کھاتا ہے۔میں