خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 442
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطا۔کام لیا جائے گا بلکہ یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ علم کے ہر میدان میں جب تحقیق ہوگی ، کتب لکھی جائیں گی اور ان کی اشاعت ہوگی اور جب علم پختہ ہو جائے گا تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ قرآن کریم کی آیت ہی کی تفسیر ہے اور قرآن کریم جس عظیم ہستی پر نازل ہوا تھا یہ کتب کی اشاعت اور کتب کے مضامین کے متعلق یہ تحقیق اور یہ علم کہ وہ قرآن کریم کی آیات ہی کی تفسیر ہیں ، ہر علم کے میدان میں اس بات کو ثابت کرے گا کہ مخالفین کا یہ اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ مجنوں ہیں ، غلط ہے۔دوسرے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جہاں آپ کی صداقت اور حقانیت اور اللہ سے آپ کا تعلق اور معلم حقیقی کے سرچشمہ سے آپ کا علم ثابت ہو گا وہاں اس ذریعہ علم سے بنی نوع انسان پر اس قدر احسان ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ وہ ان احسانوں کو دیکھ کر آپ پر درود بھیجیں گے اور ایک نہ ختم ہونے والا اجر اس طرح بھی آپ کو ملتا رہے گا۔فرمایا تیرا جو اجر ہے وہ کاٹا نہیں جائے گا۔اس میدان میں بھی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے ہزاروں لاکھوں پہلو ہیں۔ایک پہلو آپ کی عظمت کا یہ ہے کہ آپ کی بعثت کے ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا گیا کہ قلم اور دوات سے بڑی کثرت سے کتب شائع ہوں گی۔میں نے ابھی مثال میں جو بتایا چودہ سو سال میں آپ کے زمانہ سے پہلے جو کتب شائع ہوئیں اب ایک مہینے میں ان سے زیادہ تعداد میں شائع ہو جاتی ہیں۔بات اگر یہیں پر ختم کر دی جاتی تو یہ بھی ایک عظیم پیشگوئی تھی لیکن یہاں پر اللہ تعالیٰ نے بات کو ختم نہیں کیا بلکہ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ کتب کی کثرت اشاعت سے مراد یہ ہے کہ نئے سے نئے علوم نکلیں گے تبھی تو کتب کثرت سے شائع ہوں گی۔پھر تحقیق جو نئے سے نئے میدانوں میں کی جائے گی اس کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور صداقت ثابت ہوگی اور یہ ثابت ہوگا کہ اس میدان میں بھی انسانی زندگی کے اس شعبے کا جہاں تک تعلق ہے اس میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان پر بڑا احسان ہے اور انسان اس کے بدلہ میں درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے گا اور خدا سے کہے گا کہ اے ہمارے رب ! تیرے اس محبوب بندے نے ہم پر کتنے احسان کئے ہیں ہم تو ان احسانوں کا بدلہ نہیں اتار سکتے تو خود ہی بدلہ اتار اور زیادہ سے زیادہ جزا دے۔