خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 411

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب انہوں نے شرافت کی تمام قیودتو ڑ کر اپنے نبیوں پر نہایت گندے اور مخش الزام لگا دیئے تاریخ بدل گئی۔زمانہ بدل گیا۔تاریخ کا وہ دور ختم ہو گیا اور نیا دور شروع ہو گیا۔وہ تو میں بدل گئیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ نے نئے نبی مبعوث کئے اور ان انبیاء پر نئے الزام لگائے گئے لیکن پہلے الزامات تاریخ نے محفوظ کر لئے۔آدم علیہ السلام پر جو تہمت لگی تاریخ نے اسے تو محفوظ کر لیا لیکن آدم علیہ السلام جو صداقت لے کر آئے تاریخ اسے بھول بھی گئی۔حضرت نوح علیہ السلام پر تہمت لگی اور تاریخ نے اسے محفوظ کر لیا لیکن حضرت نوح علیہ السلام جو صداقت لے کر آئے تھے تاریخ نے اسے خالص رنگ میں محفوظ نہیں رکھا بلکہ اسے کچھ محفوظ رکھا تو کچھ گند اس میں ملا دیا جس طرح آدھ سیر دودھ ہو اور اس میں آدھ سیر نہایت گندا اور غلیظ قسم کا پانی ملا دیا جائے تو وہ دودھ تو نہیں رہتا۔اسی طرح وہ صداقت بھی صداقت نہیں رہی تھی یہی حال دوسرے انبیاء کا ہے۔قرآن کریم میں جن انبیاء کے نام لئے گئے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک کا نام لے کر اس سے اس تہمت کو دور کیا جو اس پر لگائی گئی تھی اور کسی مصلحت کی بناء پر ظاہر نہیں کئے گئے (ویسے بھی ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار انبیاء کے نام قرآن کریم میں لئے نہیں جاسکتے تھے ) ان سب کے متعلق یہ اعلان کیا کہ وہ ہر قسم کی تہمتوں سے پاک ہیں۔اب ہم تھوڑ اسا تفصیل میں جا کر دیکھتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام پر یہ اتہام باندھا گیا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے شیطان کی فرماں برداری کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور دنیا میں جو بزرگ کتابیں سمجھی جاتی ہیں ان میں یہ اتہام موجود ہے۔حوالہ تو میں نے لکھا ہوا ہے لیکن میری نیت یہ ہے کہ میں حوالہ اس وقت پڑھوں گا نہیں جب یہ تقریر چھپے گی تو حوالہ بھی اس میں آ جائے گا اس لئے آپ یہ نہ سمجھیں کہ بغیر حوالہ کے بات کر رہا ہوں میں جب دوسرے کے منہ میں بات ڈالتا ہوں تو اس کی کتاب کا حوالہ دیتا ہوں۔غرض حضرت آدم علیہ السلام پر یہ الزام لگایا گیا کہ آپ نے جانتے بوجھتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری سے بچنے کے لئے باغ کے درختوں میں جا چھپے اور یہ اللہ تعالیٰ پر بھی الزام ہے کہ وہ علام الغیوب نہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا میں یہ اعلان کیا کہ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ( طه : ١١٦) پیدائش باب ۳ آیت ۷،۶