خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 375

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۵ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ ء۔دوسرے روز کا خطار نے مبلغ بھیجے۔اور مبلغ بھیجیں۔پس یہ تو چلے گئے اور کہاں سے بھیجیں آپ دیں بچے میں نے بتایا ہے کہ یہ ایک سال کا یا دو سال کا کام نہیں اگر آج شروع کیا جائے تو جو کام آج سے پندرہ سال بعد نتیجہ خیز ہونا ہے تو وہ آج شروع ہونا چاہئے ورنہ پندرہ سال کے بعد نتیجہ خیز ثابت نہیں ہونا۔جس آم کے درخت سے آج سے آٹھ سال بعد تک آپ نے پھل کھانا ہے وہ آج زمین میں لگنا چاہئے۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو چونکہ آٹھ سال بعد آپ نے پھل کھانا ہے اس لئے سات سال کے بعد اس کو لگائیں گے مگر پھر آٹھ سال کے بعد اس سے پھل نہیں کھا سکتے۔آپ اگلے تین چار سال میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے دیں غالباً جامعہ کا چھ سال کا کورس ہے۔پس چھ سال کے بعد وہ بیچ (batch) نکلنے شروع ہوں گے اور اگلے بارہ سال کے بعد یا پندرہ بیس سال کے بعد جو بھی منصو بہ ہو سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے پاس مخلص اور فدائی مبلغین ہوں۔بعض بڑے اچھے نکلتے ہیں اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ دل کرتا ہے کہ آدمی ان پر قربان ہی ہو جائے۔ایسے اچھے اللہ تعالیٰ واقف دیتا ہے بعض ٹوٹے ہوئے بھی ہیں۔بعض میں بال آئے ہوئے ہیں اور ان کا یہ بال اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی مغفرت کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔یہ بال اردو کا محاورہ ہے یعنی تریر آئی ہوئی اور بعض ایسے بدقسمت ہوتے ہیں کہ ابھی چھوٹا سا بال ہی ان کے اوپر آتا ہے تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ ٹوٹ کر دوٹکڑے ہو جاتے ہیں کسی کام کے نہیں رہتے۔یہ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے مجھے بھی اور آپ کو بھی کہ جس انسان کی فطرت اور کردار پر بال آ جائے اس کو میرے لئے استعمال نہ کرنا۔اس لئے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ جس پلیٹ میں بال آ جائے اسے اپنے کھانے کے لئے استعمال نہ کرنا اس میں زہر جمع ہو جاتا ہے۔پس ایک پلیٹ میں بال آ جائے تو آپ اپنے کھانے میں استعمال نہ کریں اور ایک انسان کے کردار میں جو اللہ تعالیٰ کے نبی کے لئے ایک پلیٹ کی طرح ہے اور ایک گلاس کی طرح ہے اس پر بال آجائے تو کوئی سفارش پہنچ جائے۔کیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ہمارے دلوں میں وہ غیرت نہیں جو اپنے نفسوں کے لئے ہے۔پس جس کے کردار اور اخلاق میں بال آجائے گا وہ تو ٹوٹ گیا اسے باہر پھینک دیا جائے گا لیکن یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس بات کی حفاظت کریں کہ ہمارا ہر نو جوان اس بات سے محفوظ رہے۔لیکن کبھی ہماری غفلت کی وجہ سے اور کبھی اس کی بدقسمتی کی وجہ سے یا اس کے کسی