خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 356
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۶ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار ہے تو دو۔اگر تو انگریزی ماں کا بچہ یہ کہے کہ انگریزی میں مواد دو، اگر ایک فرانسیسی ماں کا بچہ ہمیں یہ کہے کہ فرانسیسی میں مواد دو، اگر ایک سپینش ماں کا بچہ یہ کہے کہ سپینش میں مواد دو، تو اس کا حق اور ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے کہ ہم اس کی زبان میں وہ مواد شائع نہیں کر سکے اور اس طرح اسے روحانی خزائن سے محروم کر رہے ہیں۔لیکن جب ایک اردو بولنے والے ماں باپ کا بچہ ہمیں یہ کہے کہ مجھے اردو نہیں آتی انگریزی میں مواد دو تو شاید میری غلطی ہو پر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات اسے شرمندہ کرنے والی ہے۔محمد اجمل صاحب شاہد نے ایک دلچسپ کتاب ( میرے لئے دلچسپ ) یعنی امام محمد ابن سیرین کی کتاب کا وہ کہتے ہیں ترجمہ ہے۔میرا خیال ہے خلاصہ ہے کیونکہ میرے پاس عربی میں ہے اور میں نے جب مقابلہ کیا تو تعبیر الرویاء اردو والی کو اس سے بہت کم پایا غالباً انہوں نے خلاصہ کیا ہے ٹھیک ہے انہوں نے بہت سارا سوچا ہوگا کہ اتنی لمبی لمبی خوا میں بھی لوگ نہیں دیکھتے۔پس انہوں نے سوچا کہ اس کو مختصر کر دو بہر حال بہت سے لوگوں کو اس سے دلچسپی ہوتی ہے۔یہ بڑا دلچسپ علم ہے۔جن کو دلچسپی نہیں ہوتی وہ پھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں۔ہر ڈاک میں پانچ سات خواہیں ہوتی ہیں کہ یہ میں نے خواب دیکھی ہے اس کی تعبیر بھیج دیں۔اگر میں اس طرح دوستوں کی خوابوں کی تعبیر کرنے لگوں تو غالباً جماعت کا اور کوئی کام نہ کر سکوں صرف تعبیر میں لکھتا رہا کروں۔اس واسطے میں تعبیر کا خلاصہ بھجوا دیتا ہوں۔کیونکہ بالکل مایوس بھی نہیں کرنا ہوتا۔مثلاً ان کو میں اتنا لکھ دیا کرتا ہوں کہ اگر میرے نزدیک خواب مبارک ہو کہ یہ خواب مبارک ہے یا اگر میرے نزدیک انذار کا کوئی پہلو ہے تو صرف یہ نہیں لکھتا کہ اس میں انذار کا کوئی پہلو ہے صرف اتنا لکھ دیتا ہوں کہ کچھ صدقہ دو دعائیں کرتے رہو۔پس اس سے زیادہ تو نہیں لکھ سکتا۔ایسے دوستوں کے پاس یا ان کے شہر اور محلے میں یہ تعبیر الرویا اردو میں ہوگی تو شاید ان کی کچھ سیری ہو جائے۔اصحاب احمد جلد سوم ملک صلاح الدین صاحب کی طرف سے شائع ہوتی ہے۔یہ بھی بڑی ہی مفید کتاب ہے انہوں نے بہت سا علم اکٹھا کر دیا ہے۔اسی طرح چوہدری ظہور احمد صاحب نے ایک کتاب لکھی تھی کشمیر کی کہانی اور وہ ختم ہو گئی تھی اب دوبارہ اس کو شائع کیا گیا ہے اس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کشمیر اور کشمیریوں کے لئے جو کام کیا اور جماعت سے جو