خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 344
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب میں لگیں یا خدا کے حکم کے مطابق اس کی عبادت اور اس کی حمد کے بیان میں ہوں جہاں بھی ہوں جس حالت میں بھی ہوں جس کام میں بھی ہوں جس رنگ میں بھی آپ کی زندگی کے لمحات گذر رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اپنی رضا کے سامان پیدا کر رہا ہے اور اگر ہم میں سے کسی سے کوئی غفلت یا کوتا ہی سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت جوش میں آئے اور وہ کچھ اس رنگ میں اس کو چھپالے کہ خود ہمارے ذہن سے بھی وہ نکل جائے اور ہمیں بھی وہ یاد نہ رہے تا کہ ہم عاجز بندے اپنے دل کے سامنے بھی شرمندگی کا احساس نہ پائیں۔ہر قسم کی نیک دعائیں اپنے لئے کریں اور میں جو عاجز بندہ ہوں اور اپنے اندر کوئی خوبی نہیں پا تا لیکن اس کرسی کی عظمت پہچانتا ہوں جس پر اس ذرہ حقیر کو خدا نے اپنی حکمت کا ملہ سے بٹھایا ہے اس عظیم ذمہ داری کو نبھانا آسان کام نہیں نہ کسی انسان کے بس میں ہے۔ہرلحہ اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت ساتھ نہ دے تو خلافت کی ذمہ داری نہیں نبھائی جاسکتی۔آپ دعائیں کرتے رہا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل سے اس ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق عطا کرے تا کہ دنیا میں جو اسلام کے غلبہ کی ایک مہم جاری ہوئی ہے وہ بھی تکمیل کی منازل طے کرتی ہوئی جلد تر اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے اور آپ کا اپنا بھی یہ فائدہ ہے کیونکہ اس خلافت حقہ راشدہ کو آپ کے خوف اور خطر کو اور پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔اگر میں اپنے رب سے اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق پاؤں گا تو اس وقت میں آپ کی پریشانیوں کے دور کرنے کی بھی توفیق پا رہا ہوں گا۔پس ہر لحاظ سے آپ کا اس میں فائدہ ہے اور میرا بھی یہ فائدہ ہے کہ میں خدا کی عظمت اور اس کے جلال سے ہر وقت کا نپتا رہتا ہوں۔تو میری مدد کریں اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ خوش رہے اور جب اس دنیا سے گذرنے کا وقت آئے تو اس وقت بھی اس سے راضی ہوئے خدا کی گود میں بٹھایا جائے۔پرے نہ دھتکار دیا جائے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )