خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 329

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ----- ۳۲۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہے وہ نہیں پڑھوں گا۔یہ مضمون انشاء اللہ جب بھی کتابی صورت میں چھپا تو پورا حوالہ آ جائے گا میں پھر یہ فقرے دے دوں گا۔) چنانچہ حضرت داؤد کے زبور میں لکھا ہے۔۔۔اے خدا تیر اتخنت ابد الآباد ہے تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا ہے۔(دیکھوز بور نمبر ۴۵) توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۵ ، ۶۶ حاشیه ) اب حضرت داؤد علیہ السلام کی اس عبارت میں کہ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے میں جو یہ معنے ہیں کہ اس کے مخاطب اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے خدا تعالیٰ نے کافی ثبوت مہیا کر دیا۔کیونکہ شروع کیا اس فقرہ سے کہ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے اور بعد میں یہ کہہ دیا ایک فقرہ چھوڑ کے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا۔معلوم ہوا کہ پہلا خدا کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بولا گیا کیونکہ خدا نے خدا کو معطر تو نہیں نا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں) اب جاننا چاہئے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیر اتخنت ابد الآباد ہے تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے یہ محض بطور استعارہ ہے جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شان محمد ی ہے اس کو ظاہر کر دیا جائے پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔”دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا میرا برگزیدہ جس سے میراجی راضی ہے میں نے اپنی روح اس پر رکھی (روح القدس سے مدد کی۔وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا۔(رحمۃ العالمین بن کر آئے گا۔وہ نہ چلائے اور اپنی صدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سنائے گا ( آگے چلتا ہے ) پھر آپ لکھتے ہیں۔وہ نہ گھٹے گا نہ تھکے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے اور جزیرے اس کی شریعت کے منتظر ہو وہیں۔۔۔(مظہر اتم ہونے کی وجہ سے آپ کا ظہور خدا کا ظہور قرار دیا گیا اور لکھتے ہیں۔) خداوند خدا ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اسکائے گا۔الخ۔اب جاننا چاہئے کہ یہ فقرہ کہ خدا وندخدا ایک