خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 289

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸۹ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب خلفاء سلسلہ احمدیہ اور دوسرے بزرگوں کی کتب یا پہلی کتب کے ان حصوں کو دیکھنے کی عادت نہیں ڈالتا جو ہمارے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ روحانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔پہلی کتب کے بعض حصے تو ایسے ہیں جو پہلے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں صرف چندلوگوں کی دلچسپی کا سامان ہے مثلاً فلسفہ ہے۔فلسفہ کا ایک پرانا مسئلہ تھا جو ہمارے اسلام میں بھی آ گیا ہے کہ زمین چپٹی ہے۔اس پر فلسفیوں نے بہت سارے دلائل لکھے ہیں اور اب ہمارے اس زمانہ میں مولوی فاضل کے کورس میں بھی ایک ایسی کتاب آگئی ہے۔اس مضمون میں بہت سارے طلباء صرف اس لئے فیل ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کے مضمون کو یہ سمجھ کر یا در کھنے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ سچ ہے اور اس سچ کو قبول کرنے کے لئے ان کا ذہن تیار نہیں تھا۔چند سالوں کے لئے میں بھی قادیان میں جامعہ احمدیہ میں پروفیسر رہا۔میں نے اپنے شاگردوں کو پہلے ہی سال یہ کہا تھا کہ یہ کتاب اتنی آسان ہے کہ اس سے زیادہ آسان اور کوئی کتاب نہیں کیونکہ یہ کہانیوں کی کتاب ہے اور یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی ارتقاء میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا کہ جب انسان یہ سمجھتا تھا کہ زمین چپٹی ہے گول نہیں۔یہ ایک واقعہ تھا جو ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے یاد پڑتا ہے جس مضمون میں مولوی فاضل کے امتحان میں سب سے زیادہ لڑکے فیل ہوتے تھے اس میں میری کلاس ساری کی ساری پاس ہوگئی۔کیونکہ انہوں نے اسے اس لحاظ سے یاد نہیں رکھا تھا اور اس پر غور نہیں کیا تھا کہ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی بلکہ انہوں نے خیال کیا کہ ایک زمانہ میں انسان یہ سمجھا تھا اور غلط سمجھا تھا اور اب یہ زمانہ ختم ہو گیا ہے۔غرض اس قسم کی جو باتیں ہیں وہ ہر ایک کے کام کی نہیں۔ہاں وہ تاریخ دان کے کام کی ہیں وہ کہے گا کہ ایک زمانہ میں لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا۔اب میں اس کی ایک اور مثال دیتا ہوں اور وہ یہ کہ ایک زمانہ میں مسلمان علماء اس غلطی میں مبتلا تھے کہ قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ ہو جاتی ہیں اور فلاں عالم نے اپنی فلاں کتاب میں فلاں فلاں آیات کو منسوخ سمجھا ہے۔اب جو مذہبی تاریخ دان ہے اس کا تو یہ مسئلہ ہے لیکن ایک عام احمدی اور مسلمان کو اس بات میں کیا دلچسپی ہے کہ پہلے زمانہ میں کیا کیا غلطیاں تھیں۔ہمیں تو صرف اس بات میں دلچسپی ہے کہ پہلے لوگوں نے اسلام کے روحانی سمندر میں سے موتی کون سے نکالے ہیں جو ہمیشہ رہنے والے ہیں اور جنہوں نے ان کو بھی فائدہ پہنچایا اور ہمیں بھی ان سے