خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 278

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ہے۔۲۷۸ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب حصہ کا تعلق ان سے نہیں یعنی جو کچھ ہم نے کرنا ہے وہ تو خلیفہ وقت ہی کا کام ہے۔اس وقت وہاں اسلامی تعلیم کو قبول کرنے کی فضا بھی ہے اور بعض ایسی روکیں بھی ہیں جو دوسری جگہوں پر نہیں۔دوسرے ممالک جنہوں نے ترقی کی ہے وہ مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اس لئے جب وہ اپنا مذہب بدلتے ہیں تو عام طور پر سنجیدگی سے بدلتے ہیں یعنی پھر ان کا مذہب سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً عیسائیت ہے وہاں عیسائی محض نام کے ہیں بعض لوگ عیسائیت کے گرجا میں بھی نہیں جاتے۔پھر بھی وہ عیسائی ہیں۔اگر اسلام لانے کے بعد بھی ان کی یہی کیفیت رہے تو اسلام لانے یا کوئی اور لیبل لگانے کی ضرورت بھی کیا ہے لیکن جب وہ مسلمان ہوتے ہیں تو اسی لئے مسلمان ہوتے ہیں کہ پہلے ان کے دل میں اللہ اور مذہب کا خیال پیدا ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے پھر وہ اسلام کے حسن کو دیکھتے ہیں اور اس سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن جاپان کے حالات کچھ مختلف ہیں وہ مذہب کو کلب سمجھتے ہیں یورپین ممالک تو مذہب کو کلب بھی نہیں سمجھتے۔قصہ ہی ختم ہو گیا۔اس لئے جب وہ اسلام میں آئیں کے تو اسے کلب سمجھ کے نہیں آئیں گے بلکہ اسے مذہب سمجھ کر آئیں گے یعنی اگر وہ اسلام کی طرف آئیں گے اور اتنا بڑا قدم اٹھائیں گے تو سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ اٹھا ئیں گے لیکن جاپان میں مذہب کو کلب سمجھتے ہیں اور وہاں آپ کو ہزاروں آدمی ایسے ملتے ہیں جو عیسائیت میں کیتھولک کلب میں بھی شامل ہیں اور پروٹسٹنٹ کلب میں بھی شامل ہیں اور بدھ مذہب کے کلب میں بھی شامل ہیں اور ان کے اپنے جو دو چار بڑے مذاہب ہیں ان میں سے بھی ہر ایک کلب میں شامل ہیں۔کسی مذہب کی رسومات وہ پیدائش کے وقت ادا کر لیتے ہیں اور کسی کی وفات کے وقت کر لیتے ہیں اور اب عیسایت وہاں گئی؟ ہے تو وہ اسے بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے کلب سمجھتے ہیں۔بعض ان میں سے اسلام کو بھی کلب سمجھتے ہیں وہ مسلمان ہو جاتے ہیں لیکن اسلام کی روح ان میں داخل نہیں ہوتی ہے۔یہ روح یدا کرنے کے لئے صرف علمی دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لئے ہمیں ایک خدا رسیدہ بزرگ انسان کی ضرورت ہے جو وہاں جا کر ایسا نمونہ ان کے سامنے رکھے کہ وہ یہ سمجھنے لگیں کہ انسان کا واقعی اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ محبت کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔تب ان کے دل میں حقیقی اسلام پیدا ہو گا۔ورنہ دلائل کے ساتھ اس تعلق کو قائم کرنا بڑا مشکل ہے۔خدا کرے کہ وہ دلائل