خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 257
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۷ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ه تو اللہ تعالیٰ پر ہمارا تو کل ہے۔ہم کمزور ہیں۔ہم عاجز ہیں۔ہم محض نیستی ہیں۔ہم لاشئے محض ہیں لیکن ہمارا رب تمام طاقتوں والا ہے۔اسی پر ہم تو کل اور بھروسہ رکھتے ہیں اور اس سے ہر خیر کی امید رکھتے ہوئے اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ جس طرح آج سے قبل ہر سورج جو ہم پر چڑھا اس نے ہمیں خدا کے فضل سے تعداد اور تقویٰ میں زیادہ پایا۔آئندہ بھی ہر سورج جو اس دنیا پر چڑھے گا وہ جماعت احمدیہ کی ترقی پر ایک گواہ بن کے چڑھے گا۔انشاء اللہ اور ہم کامل وثوق اور یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے شخصوں کی (جن کا میں ابھی ذکر کرتا ہوں اور ابھی یہ تار آئی ہے ) ( کبھی امیدیں بر نہیں آئیں گی۔وہی ہو گا جو خدا چاہتا ہے۔امام کمال یوسف نے لکھا ہے کہ ایک مقامی پادری نے ایک اخبار میں یہ لکھا ہے۔” میرے لئے اور میرے جیسے بہتوں کے لئے مسجد کے افتتاح کا دن بہت افسوس ناک تھا۔اس دن ایک بیرونی اور دشمن عیسائیت مذہب نے ہماری عیسائی دنیا میں مداخلت کی۔اور اپنے لئے گھر بنالیا۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ عالم عیسائیت میں اس مذہب کے لئے کوئی مقام نہ ہوگا (بارہ تیرہ دوست اس وقت سے مسلمان ہو چکے ہیں۔جن میں سے ایک کیتھولک بھی ہے۔جو بڑے کٹر ہوتے ہیں ) اور اس مذہب کو کبھی خوش آمدید نہیں کہنا چاہئے۔اس پادری کو اور اس جیسے دوسرے پادریوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس یقین کامل پر کھڑے ہیں کہ تمہاری خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ہم تمہارے دشمن نہیں۔ہم تمہارے دوست ہیں اور دوست ہونے کی حیثیت میں اپنے اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے تمہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارا سر توڑنے کے لئے وہان نہیں آئے لیکن ہم تمہارے دلوں کو اور تمہاری قوم کے دلوں کو اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضرور جیتیں گے۔انشاء اللہ اب دعا پر اس سالانہ اجتماع کو میں ختم کروں گا۔آپ دعائیں کریں۔ہر قسم کی برکت اور خیر چھوٹی اور بڑی اپنے رب سے مانگیں۔اس پر بھروسہ اور تو کل رکھیں اور اپنے رب سے یہ کہیں کہ اے خدا تو نے ہمیں کمزور نحیف اور غریب بنایا ہے۔ہم پر بڑی ذمہ داری عائد کی ہے۔تیرے فضل کے بغیر ہم اپنی ذمہ داری کو نبھا نہیں سکتے۔پس تو اپنا فضل ہم پر نازل کر اور ہمیں توفیق دے کہ ہم وہ اعمال بجا لائیں جو تیری نگاہ میں پسندیدہ ہوں اور تیرہ رضا کو جذب کرنے والے ہوں۔تیری برکتوں کا ہمیں