خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 256
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۶ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب نے دو باتیں بتا ئیں۔ایک یہ کہ عالمگیر تباہی موسم بہار میں ہوگی اور اس مدعی کا تباہی کا زمانہ نہیں وہ جس کی پیشگوئی ان جھوٹے مدعیان کی تھی۔۲۵ / دسمبر کو ختم ہوتا تھا۔جو موسم بہار سے پہلے ختم ہو جا تا تھا۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلو والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ تیرے مقابل پر آکر جو پیشگوئی کرے گا۔وہ ناکام ہوگا۔۔تو ان دو چیزوں سے میں نے استدلال کر کے اور اپنے رب کامل پر تو کل رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ایسا نہ ہو۔آپ نے کل وہ خط میرا سنا عبدالسلام میڈیسن کو خط لکھتے ہوئے میں نے بڑے زور سے کہا کہ تم ان سے کہو کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور جس ہستی کو تم خدا سمجھتے ہو۔وہ خدا نہیں۔وہ بھی جھوٹ کہتا ہے۔تم بھی جھوٹے ہو اور اگر کوئی خدا تمہارے کان میں پھونکیں مارنے والا ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے۔چنانچہ ان کو شرمندہ ہونا پڑا۔ہمارے کم عمر اور ناتجربہ کار مبلغ ( جنہوں نے باہر کے ملکوں میں کام کیا ہے) جب بھی تو کل کے اس مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہوا ہے۔اور انہیں کبھی شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔پس ہم تو مانتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں اور ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کے اموال نہیں۔ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ہمیں سیاسی اقتدار حاصل نہیں۔ہمیں یہ کہنے میں بھی باک نہیں کہ دنیا والے اگر چاہیں تو دنیوی لحاظ سے ہر قسم کی ذلتیں ہمیں پہنچا سکتے ہیں اور دکھ دے سکتے ہیں لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب پر تو کل ہے اور دنیا کی کوئی طاقت احمدیت کو نا کام نہیں بنا سکتی۔( نعروں کی گونج ) اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں غالب کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ضرور پورا ہوگا۔لیکن اس کی راہ میں ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی اور وہ قربانیاں دینے کے لئے وہ صفات ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی پڑیں گی۔جن کا مطالبہ اللہ تعالیٰ ہم سے کرتا ہے اور جن میں سے نو کا ذکر میں نے اس وقت آپ کے سامنے کیا ہے۔ہم نے انتہائی قربانی دینی ہے اور ہم اپنے اللہ پر یہ امید رکھتے ہیں اور اس پر یہ تو کل اور بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرح عظیم انعاموں سے نوازے گا اور جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔وہ ہمیں توفیق دے گا کہ دنیا اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جائے کہ ہم ہی خدا کی ایک جماعت ہیں محبتی جس کو اس نے بزرگی عطا کی ہے۔