خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 243 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 243

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۳ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب دوسرا محاذ شیطانی وسوسوں کا ہے جس کے خلاف ہم نے جہاد کرنا ہے یورپ کا فلسفہ اور یورپ کا تمدن ہر دو شیطانی وسوسے پیدا کرتے ہیں مسلمان کے دل میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں۔ہم ان کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ ایک میدان ہے جس میں ہم نے جہاد کرنا ہے۔ہمارے آباء اور بڑوں نے بھی جہاد کے یہی معنی کئے ہیں کہ شیطان کے خلاف جو جنگ کی جاتی ہے وہ بھی مجاہدہ ہوتا ہے بہر حال یہ ایک محاذ ہے جو ہمارے لئے قائم ہے۔پہلوں نے بھی اسے محسوس کیا اور وہاں حملہ آور ہوئے اور کامیاب ہوئے اور ہم نے بھی اس محاذ پر حملہ کرنا اور کامیاب ہونا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا حسین معاشرہ عطا کیا ہے کہ اس سے زیادہ حسین معاشرہ تصور میں بھی نہیں اُسکتا پھر ہم مغربی معاشرہ سے کس طرح متاثر ہوں۔میں نے ایک دفعہ پہلے بھی بتایا ہے کہ ہیمبرگ (جرمنی) میں ایک احمدی جرمن کی بیوی اسلام کی طرف ذرا بھی متوجہ نہیں ہوتی تھی اور اپنے خاوند کی بات ہی نہیں سنتی تھی انہوں نے مجھ سے ذکر کیا تو کچھ باتیں میں نے غالباً اپنی تقریر میں بیان کیں۔بعد میں جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھو بڑی لمبی لڑائی عورت نے اپنے حقوق کو لینے کے لئے لڑی صدیاں بلکہ کہنا چاہئے شاید ڈیڑھ دو ہزار سال کی لڑائی جو لڑی گئی ہے اس میں مرد بھی عورتوں کے ساتھ شامل ہوئے اور ساری دنیا کے محاذ پر ایک ہنگامہ بپا ہوا کہ عورتوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں اور صدیوں یہ جنگ لڑی جاتی رہی اتنے لمبے عرصہ کی جدو جہد کے بعد تم جو حقوق حاصل کرسکی ہو اس سے زیادہ حقوق اسلام تمہیں قرآن کریم میں دیتا ہے اس لئے اپنے فائدہ کے لئے قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو تمہیں پتا لگے کہ قرآن کریم نے تمہارے کیا حقوق مقرر کئے ہیں تا کہ تم اپنے خاوند سے ان حقوق کا مطالبہ کر سکو تو انہوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ اب اس حد تک وہ میری باتیں سننے لگ گئی ہے غرض میرے بتانے پر اسے خیال پیدا ہوا کہ مجھے پتہ لگنا چاہئے کہ میرے خاوند پر میرا کیا حق ہے جو میں اس سے مانگوں اس قدرحسین معاشرے کے بعد ہم ان کی نقل کیوں کریں جو اس وقت اندر سے کھوکھلے ہوئے ہوئے ہیں۔اگر آپ آج لنڈن کے بازاروں میں اس گند کا مشاہدہ کریں جو ہر پھرنے والے کو وہاں نظر آتا ہے تو اس کے بعد آپ ایک لحظہ کے لئے بھی ان کے کاموں (ہم کسی آدمی کے دشمن نہیں ) کو اور ان کے اخلاق اور ان کے افعال کو اچھا سمجھتے