خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 11

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 11 ۲۰ / دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار ہے اس کا ایک نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے یہ کتاب قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ہدایت کے مطابق اور آپ کی خفیف سی نگرانی کے ماتحت شائع کی گئی تھی اور اس کا تعارف بھی آپ نے ہی لکھا ہے۔یہ اچھی کتاب ہے اور نو جوانوں کے لئے مفید ہے دوست اس کی خریداری کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔تجلی قدرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کی روایات کی ایک کتاب ہے۔بعض دوستوں کا خیال ہے کہ مولوی صاحب کا حافظہ مقام اور تاریخ وغیرہ کے لحاظ سے اچھا نہیں۔بلکہ بہت کمزور ہے لیکن اگر مضمون درست ہو اور روایات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہو رہی ہوں اور پھر وہ سچی اور دل پر اثر کرنے والی ہوں۔تو صرف اس وجہ سے کہ لکھنے والے کے حافظہ نے کہیں غلطی کی ہمیں ان کی اشاعت میں روک نہ بننا چاہئے اور ان کی قدر کرنا چاہئے پس میں کتاب ” بجلی قدرت کی طرف بھی دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اسے خریدیں اور اس کا مطالعہ کریں۔ثاقب صاحب زیروی جنہوں نے ابھی ابھی اپنی ایک نظم پڑھ کر ہمارے زخموں کو تازہ کیا ہے ان کا ایک رسالہ " لا ہور نامی لاہور شہر سے شائع ہوتا ہے وہ اسے بڑی پریشان حالی میں چلائے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دوست ان کی آواز کو پسند کرتے ہیں ان کی نظموں کو بھی پسند کرتے ہیں لیکن ان کا شکوہ ہے کہ ان کے لاہور کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان کے اس شکوہ کو دُور کرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اشاعت اسلام اور غلبہ اسلام کی جو تحریک جاری فرمائی ہے اور جو جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔اس کی بنیادالوصیت کے نظام پر ہے۔جو حضور نے اپنے رسالہ الوصیت میں ایک لحاظ سے تفصیلی طور پر ایک لحاظ سے مختصر طور پر بیان کیا ہے میں مختصراً اس جماعتی نظام کے مختلف شعبوں کے متعلق آن کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت احمدیہ کا نظام جو الوصیت کی بنیادوں پر قائم ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اس کی تشکیل فرمائی تھی اور بعد میں خلفاء نے اس کو مضبوط کیا اور اس کے متعدد