خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 166

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶۶ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب دیں کہ ہم مسلمانوں سے اسی طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں (حضرت مسیح علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں سے کمالاتِ ایمانی واخلاقی و برکاتی و تاثیراتی وقولی و فعلی و ایمانی و عرفانی و علمی و تقدسی اور طریق معاشرت کے رُو سے کون نبی افضل و اعلیٰ ہے۔اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گا۔ور نہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے۔جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کرلیں تو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے۔“ ( مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۸۳) اس طریق پر عمل کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ کامل نبی وہ ہے جس نے کامل زندگی اس دنیا میں گزاری اور ایک مفلوج جس کا آدھا جسم مارا ہوا ہو۔اس کے متعلق کوئی عقلمند انسان یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ فالج کی حالت میں ایک کامل زندگی گزار رہا ہے۔وہ شخص یقینا ایک کامل زندگی نہیں گزار رہا۔اسی طرح اگر ایک شخص نابینا ہے تو وہ بھی کامل زندگی نہیں گزار رہا۔ایک شخص پاگل ہے تو وہ بھی کامل زندگی نہیں گزار رہا۔آپ نے بیان فرمایا کہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے مقابلہ یہ ہونا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کامل نبی اور زندہ نبی ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل نبی اور زندہ نبی ہیں۔آپ نے کمالات تاثیراتی اور تقدسی کا اس لئے ذکر فرمایا ہے اور اگر عیسائی مقابلہ کے لئے تیار ہوں۔تو آپ نے فرمایا وہ کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تا ان کی دعوت فیصلہ کچھ تبدیلی کے ساتھ یا بہتر رنگ اور بہتر شکل میں ہم منظور کرلیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تاریخ مقررہ پر اور جلسه قرار دادہ پر ضرور کوئی نہ کوئی شخص حاضر ہو جائے گا پھر آپ نے فرمایا کہ اگر ہمارا بیان کردہ طریق مقابلہ منظور ہو تو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ کے لئے تقریر کا وقفہ دیا جائے یہ نہیں کہ دونوں فریق نے پانچ پانچ منٹ تقریر کی اور چلے گئے یا آپ نے دو گھنٹہ تقریر کر لی اور ہم نے اپنی باری پر ابھی ہیں منٹ ہی تقریر کی اور آپ نے دیکھا کہ بات نہیں بنتی تو گڑ بڑ کی اور اٹھ کر چلے گئے۔بلکہ نہایت شرافت کے ساتھ (چونکہ بحث مفصل ہوئی تھی ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا کہ ہم پانچ گھنٹے ضرور بولیں گے لیکن تمہارے لئے یہ شرط نہیں ہو گی۔اس لئے کہ یہ بھی