خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 151 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 151

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۱ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب میں سے اکثریت خدا تعالیٰ کے فضل سے شفایاب ہو جائے گی اور باوجود اس فتویٰ کے شفایاب ہو جائے گی جو ان کے اپنے ڈاکٹروں نے دیا ہوگا کہ یہ مریض لاعلاج ہیں اور ان کی زندگی بچائی نہیں جاسکتی اور جو مریض ان کے حصہ میں آئیں گے ان کی اکثریت موت کا منہ دیکھے گی۔اکثریت کی شرط میں اس لئے لگا رہا ہوں کہ ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بعض معاملات اور حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی تقدیر مبرم ہوتی ہے یعنی ان کو بدلا نہیں جا سکتا اور چونکہ ایسا بھی ہوتا ہے اس لئے ہم سو فیصدی نہیں کہہ سکتے بلکہ اکثریت کہتے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے مقابلہ ہی کرنا ہے کہ کسی کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جس کی دعا زیادہ قبول ہوگی اس کے حصہ کے مریض زیادہ تعداد میں شفایاب ہوں گے اور اس سے پتہ لگے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر زیادہ رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ: بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوا میں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه ۵ ) اللہ تعالیٰ کی تمام صفات سب مخلوق پر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اس کی صفت رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ تو اچھوں اور بُروں سب پر جلوہ گر ہوتی رہتی ہے لیکن ان رحمتوں کی کثرت اور ان کی قلت یہ بتا رہی ہوتی ہے کہ کون اس کی نگاہ میں معزز اور محترم ہے اور کون اس نگاہ میں ایک عام انسان ہے کہ جس کے ساتھ وہ صرف ربّ ہونے کی حیثیت میں حسن سلوک کر رہا ہے۔غرض یہ دعوت فیصلہ اب بھی قائم ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں اس کے اوپر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آپ کی برکتوں کو جماعت میں جاری رکھا ہے اور اس دعوتِ فیصلہ کے بعد خود بخو د معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت صداقت پر قائم ہے۔تیسری دعوت فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کتاب براہین احمدیہ لکھی۔اس کتاب کے لکھنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ پر زور دلائل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی تائید کے نشانات حاصل