خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 147
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۷ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب غرض تیسری قسم کی نصرتیں جن کا تعلق خاص مجزا نہ نفرتوں اور تائیدات الہیہ کے ساتھ ہے اور جن کا وعدہ ہمیں بھی دیا گیا ہے۔ان کی طرف ہم ان لوگوں کو بلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ ان مسائل میں اتفاق نہیں رکھتے اور اس وقت میں ان کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں۔یہ دعوت ہائے فیصلہ بھی تھیں اور چالیس کے درمیان ہیں اور ان میں سے ہر ایک فیصلہ کن ہے۔اگر ہم سے اختلافات رکھنے والے خدائی فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے فیصلہ طلب کرنے کے لئے تیار ہوں اور یہ دعا کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اے خدا یہ بندہ خود کو تیری طرف منسوب کرتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ شخص جھوٹا ہے۔ہم غلطی کھا سکتے ہیں۔ہم دوسروں کو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن تو علامہ الغیوب ہے اور تیرے لئے غلطی کا کوئی امکان نہیں تجھے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا اس لئے آ اور ہماری مدد کر، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تیری رحمتوں سے محروم ہو جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے قہر اور غضب کا تازیانہ ہم پر پڑے اور ہمیں ہلاک کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب ”سرمہ چشم آریہ میں بیان فرمایا ہے کہ قرآن شریف سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھرا ہے اور قرآن شریف میں حکمت اور معرفت اور صداقت کے بہت سے اصول بیان کئے گئے ہیں اور پھر ان کی بہت سی تفاصیل بیان کی گئی ہیں ان میں سے ہر اصل اور ہر جزو کے متعلق بحث بڑی طویل ہو جائے گی اور اس کے لئے کئی زندگیاں درکار ہیں اور ہم نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کرنا ہے اس لئے اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو اور اس کے غضب سے بچنا چاہتے ہو تو آؤ میں ایک آسان طریق تمہیں بتاتا ہوں (اور اسی دعوت فیصلہ میں تمام غیر مذاہب مخاطب ہیں یعنی آپ نے تمام مذاہب کے پیراؤں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے ) کہ قران کریم کامل اور مکمل شریعت کی حیثیت میں اپنے اندر صداقتیں رکھتا ہے اصولی بھی، ضروری بھی۔تو بجائے اس کے کہ ہم ہر چیز کو لیں اور پرکھیں۔میں تمہیں ایک آسان طریق بتا تا ہوں کہ تم دو یا تین اصول ایسے لے لو کہ ان اصولوں پر تمہارے نزدیک سب سے زیادہ اعتراض ہو سکتا ہو۔تم ان دو تین اصولوں کو منتخب کر لو اور پھر انہیں ہمارے سامنے پیش کر و۔میں تمہارے ان اعتراضات کو غلط ثابت کر کے انہی اصولوں میں سے جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ قابل مواخذہ ہیں یہ ثابت کروں گا کہ حقیقی صداقتیں ان اصول میں ہی بیان ہوئی ہیں اور اس کے مقابلہ میں جو