خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 146
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۶ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ثابت نہیں ہوتا یعنی عقلاً بھی غلط ثابت نہیں ہوتا۔چونکہ مدعی کا دعوی تعلق باللہ کا ہوتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ اس بات کی طرف بلاتا ہے کہ آؤ خدا تعالیٰ کے پاس جائیں اور اس سے پوچھیں کہ آیا واقعہ میں میں سچا اور صادق ہوں یا اگر کا ذب ہوں تو وہ کوئی ایسا نشان ظاہر کرے جس سے دنیا کو معلوم ہو جائے کہ میں جھوٹا ہوں اور مفتری ہوں اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہوں اور دین اسلام۔برگزشتہ کرنے والا ہوں لیکن دشمن اس طرف آتا نہیں۔پس ہمیشہ مدعی اور مرسل اور نبی کی جو کشمکش اپنے مخالف سے ہے وہ دنیا وی رنگ میں ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا اسے فتنہ اور فساد کی طرف لانے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ دنیا کو امن اور صلح کے ساتھ ہی فیصلہ کی دعوت دیتا ہے اور یہ صلح اور امن کے فیصلے کی جو دعوتیں ہیں یہ عام بشارتوں کو علاوہ جیسا کہ میں نے بتایا دو حصوں میں منقسم ہیں ایک وہ جو بعض مخصوص افراد سے تعلق رکھتی ہیں یعنی بعض افراد۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے ماتحت کہا کہ آؤ ہم امن اور آشتی کی فضا میں بیٹھ کر باہم فیصلہ کریں مگر ان لوگوں نے حضور کی بات نہ مانی بلکہ انہوں نے انہی راہوں کو اختیار کیا جن راہوں کو وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو بچوں کے مقابلہ میں آتے ہیں۔اس وقت میں اس قسم کے طریق کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بعض ایسی باتیں تھیں ، بعض ایسے دعاوی تھے جن کا تعلق صرف مخصوص مکان کے ساتھ یا مخصوص افراد کے ساتھ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ا فضل سے ان نفرتوں کے دروازے تمام جماعت احمدیہ پر کھولے تھے۔وہ آج بھی کھلے ہیں اور آج بھی ہم ان میدانوں میں نہایت پیار اور محبت کے ساتھ تہذیب کے ساتھ اپنے مخالفوں کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس بطل جلیل پر ہم ایمان لائے اور اس کا دعوی تھا کہ خدا سے اس کا تعلق ہے اور اس کے طفیل الہی نفرتوں کے یہ میدان ہم پر بھی کھلے ہوئے ہیں۔آؤا کٹھے ہوں اور دیکھیں کہ ہمارا خدا جو قادر و توانا ہے اور ہر چیز اس کے قبضہ قدرت اور اس کے قبضہ تصرف میں ہے جو علام الغیور ہے۔انسان انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن کوئی انسان اپنے خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔وہ حقیقت حال سے واقف ہے۔ہم غلطی کر سکتے ہیں مگر کوئی غلطی ہمارے رب کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی اس لئے آؤ ہم اپنے رب سے کہیں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے مگر نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی مخالف اس امن کے میدان فیصلہ میں ہمارے مقابلہ پر آئے گا یا نہیں آئے گا۔