خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 140
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۰ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب دروازہ پر کھڑے ہوئے جس کے اندر داخل ہو کر انسان خدا کی تائیدات اور نصرتوں کو حاصل کرتا ہے اور وہاں کھڑے ہو کر آپ نے پیچھے آنے والوں کو یوں مخاطب کیا أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّهُمُ الْبَاسَاءُ وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُوا عَلَى يَقُوْلَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرة: ۲۱۵) کہ تم اگر اس دنیا میں داخل ہونا چاہتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید کی دنیا ہے تو تم اس میں صرف اس صورت میں داخل ہو سکتے ہو کے تم میری پیروی کرو۔مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اسوہ بنایا ہے تم سے پہلے جو لوگ مجھ پر ایمان لائے انہوں نے میری زندگی کو اپنے لئے اسوہ سمجھا اور قرار دیا۔وہ میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے میرے ساتھ مل کر وہ تمام دُکھ اٹھائے اور برداشت کئے تھے جو میرے منکر اور مخالف مجھے دے رہے تھے۔ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو ان دُکھوں کی وجہ سے یا کفار کے آخری حربہ کے نتیجہ میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔جب تک تم انہی کی طرح مجھے اسوہ نہیں بناؤ گے جب تک تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکالیف برداشت نہیں کرو گے اس وقت تک تمہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید حاصل نہیں ہو سکے گی۔ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کی میرے ساتھ مل کر یہ حالت تھی کہ جب دنیا کا ہر سلسلہ ٹوٹ جاتا تھا اور جب دنیا سے نا امیدی پیدا ہو جاتی تھی اس وقت میں ( خدا کا رسول اور تمہارے لئے اسوۂ حسنہ ) اور میرے ساتھی اپنے رب کی طرف جھکتے تھے اور تضرع اور خشوع کے ساتھ اس کے سامنے گریہ وزاری کرتے تھے اور اپنے رب کو یہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب نہ ہم میں کوئی طاقت ہے کہ ہم اس دشمن سے مقابلہ کر سکیں نہ ہمیں کسی بڑائی کا دعوی ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ تیری مدد کے بغیر ہم اپنے اور تیرے دشمنوں پر غالب آجائیں گے۔سب سہارے ٹوٹ چکے ہیں صرف تیرا سہارا باقی ہے پس اپنی مدد اور اپنی نصرت کو جلد بھیج مٹی نصر اللہ۔اس فقرہ کے اندر انتہائی کرب اور اضطراب جو ایک مومن کے دل میں دعا کے وقت پیدا ہونا چاہیے۔اس کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے اور کامل امید اور کامل تو کل جو ایک مومن بندے کو اپنے رب پر ہوتا ہے اس کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ اسی پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے ایک مومن بندہ ایسے وقت میں اپنے رب سے کہتا ہے