خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 132

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۲ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔-- سارے لوگوں کو پتہ نہیں آپ کہیں ہمارے پیارے رسول نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے۔تم پہلے اس ہدایت پر عمل کرو پھر کسی سے جا کے جھگڑتے رہنا۔اگر وہ اس ہدایت پر عمل کریں گے تو کسی اور سے جھگڑنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔اس وقت ہر جماعت پر بحیثیت جماعت اور ہر فرد پر بحیثیت فرد جماعت فرض ہے کہ وہ ایک طرف حکومت سے تعاون کرتے ہوئے ملک میں امن صلح اور آشتی کی فضا کو قائم رکھے اور دوسری طرف حکومت سے اس رنگ میں تعاون کرے کہ ہر پاکستانی کو اس کی ضرورت کے مطابق اس کے ذائقہ کے مطابق میں نہیں کہہ رہا اس کی عادت کے مطابق بھی نہیں کیونکہ ہم عادتاً اپنی ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں اس کی ضرورت کے مطابق اس کو کھا نا ملتا رہے۔اس کے علاوہ ہمیں اپنے ملک کے لئے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے ( اور اس مسئلے میں سوائے دعا کے ہم کسی اور ذریعہ سے اپنے ملک اور اپنی حکومت کی خدمت بجا نہیں لا سکتے ) کہ اس وقت دُنیا کی بڑی بڑی اقوام اس کوشش میں ہیں کہ وہ کمزور اور چھوٹی اور غریب اقوام کی آزادی عملاً چھین کر ان پر کسی نہ کسی طرح اپنا سیاسی تسلط قائم کر لیں تو ہمیشہ دعا کرتے رہیں التزام کے ساتھ اور الحاح کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اس بین الاقوامی شہر سے ہمارے ملک کو محفوظ رکھے اور ہماری آزادی کو برقرار رکھے اور اس آزادی سے فائدہ اُٹھانے کی ہمارے ملک اور قوم کو توفیق عطا کرے۔اور ان کو سمجھ اور عقل اور فراست دے کہ وہ اپنے ذرائع کو بہتر سے بہتر رنگ میں استعمال کر کے اس قوم کا اقتصادی معیار بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں یہ توفیق عطا کرے کہ وہ مذہبی آزادی کو جو پہلے وقتوں میں اسلام کے تلوار کے زور سے قائم کی تھی کیونکہ تلوار ہی کے زور سے اس آزادی کو چھینا جا رہا تھا اس مذہبی آزادی کو قائم رکھنے کی توفیق ہمیشہ پاکستانی حکومتوں کوملتی رہے اور اس آزاد فضا میں سانس لیتے ہوئے پاکستانی آزاد سانس لئے ان راہوں کو پالیں جو راہیں ان کے رب تک لے جانے والی ہیں تا زندگی کا مقصد پورا ہو اور پاکستان کے قیام کی جو غرض ہے وہ بھی پوری ہو۔۹:۔مزار عین احباب سے ایک مختصر سی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو اور بعض افراد جماعت کو ایسے سامان عطا کئے تھے کہ سندھ میں زرعی جائیداد بہت سی پیدا کر لی گئی تھی مثلاً